خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 85

$1958 85 خطبات محمود جلد نمبر 39 اعتراض کرتے ہیں کہ کون یہودی عزیر کو ابن اللہ کہتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا صدوقی فرقہ تھا جو اس عقیدہ کا قائل تھا مگر اب یہ فرقہ دنیا سے مٹ چکا ہے اور آج یہودیوں میں ایسا عقیدہ رکھنے والا کوئی شخص نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد شاید پہلی یا دوسری صدی تک یہ لوگ رہے اور مٹ گئے۔اسی طرح آج عیسائیوں کا کوئی فرقہ ایسا نہیں جو حضرت مریم کو خدا کہے اور کی اس پر بھی عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن نے جو بات کہی ہے یہ غلط ہے۔حقیقت یہی ہے کہ یہ کبھی کوئی چھوٹا سا فرقہ تھا جواب مٹ چکا ہے۔عیسائیوں کو ہم یوں بھی مجرم کرتے ہیں کہ اگر جاؤں پر ان حضرت مسیح کی والدہ کی تصویر بھی لگائی جاتی ہے اور اس سے بھی وہ دعائیں کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہی شرک ہے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ ابتدائی زمانہ میں ایسے چھوٹے چھوٹے فرقے تھے جو آب مٹ چکے ہیں۔تو میں بیان کر رہا تھا کہ جو لوگ بظاہر تو حید پرست ہیں قرآن کریم نے اُن کو بھی مشرک قرار دیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک توحید کا جو مفہوم ہے وہ اُس سے مختلف ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔مثلاً ہم یہود کو ہی لیتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق فرمایا کہ وہ مشرک ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے ان کو کن معنوں میں مشرک قرار دیا ہے۔اس غرض کے لیے جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ یہ لوگ بت بناتے یا ان کی پوجا کرتے ہیں بلکہ فرماتا ہے کہ ان کے اندر یہ شرک ہے کہ اِتَّخَذُوا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ 3 جو کچھ بھی ان کے علماء کہتے ہیں اُسی کو درست مان لیتے ہیں۔یہ لوگ ایک انسان کی بات پر اتنا بھروسا رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک وہ بالکل صحیح ہو جاتی ہے اور اس کے مقابل پر الہام کو بھی رد کر دیتے ہیں اور اس طرح الہام کا دروازہ بند کرتے ہیں۔اُن کے اندر یہ احساس راسخ ہو چکا ہے کہ اُن کے علماء جو بات کہیں وہی درست ہے اور ان کو وحی الہی اور کسی تعلیم کی ضرورت نہیں۔اور جو یہ خیال کرلے کہ ہمیں خدائی ہدایت کی احتیاج نہیں اُس کے اندر شرک پیدا ہونا لازمی ہے۔شرک کی یہ تعریف جو قرآن کریم نے یہودیوں کے متعلق کی ہے آج کی مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو بات ہمارے علماء کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔اسی چیز کا نام قرآن کریم میں