خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 84

$1958 84 خطبات محمود جلد نمبر 39 شرک کا الزام لگاتا ہے۔ان کے علاوہ یہود ہیں جو قطعی طور پر بت پرستی کے خلاف تھے بلکہ بُت پرستی کے خلاف ان کے اندر اس قدر جذبہ پایا جاتا ہے کہ جس طرح مسلمان بنوں سے سلوک کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ یہودی کرتے ہیں۔مسلمانوں میں تو اس امر کو جائز نہیں سمجھا جاتا کہ کسی کے بت خانہ کو گرا دیا جائے اور اگر اسلامی حکومت ہو تو از روئے شریعت اسے اجازت نہیں کہ کسی قوم کے معبد کو خواہ وہ بت خانہ ہی کیوں نہ ہو تو ڑ دے سوائے اس کے کہ وہ معبد اپنا ہو جیسے مکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو بڑے پکے موحد تھے بنایا ہوا تھا اور ان کے علاوہ بعض دوسرے انبیاء کا بھی اس میں دخل تھا اس کی لیے اسے شرک سے پاک کرنا جائز تھا۔گویا تو حید کے معبد کو اگر بت خانہ میں تبدیل کیا گیا ہو تو دوبارہ اسے شرک سے پاک کرنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں لیکن یہود کے عقائد کے رُو سے بُت خانوں کا جلا دینا اور مٹادینا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والوں کا ان کے نزدیک مؤاخذہ ہوگا۔یہود کے مذہب پر تین ہزار سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے مگر یورپ میں رہنے کے باوجود آج تک ان کے اندر شرک نہیں کی آیا۔وہ توحید کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے ایسے ہی سخت ہیں جیسے اہلِ حدیث سمجھے جاتے ہیں مگر قرآن کریم ان کو بھی مشرک قرار دیتا ہے حالانکہ ظاہری توحید کے لحاظ سے وہ مسلمانوں سے کسی صورت میں کم نہیں۔وہ نہ حضرت موسی اور نہ کسی اور کا کوئی بُت بناتے ہیں۔ان کے معابد بنوں سے ایسے ہی خالی ہوتے ہیں جیسے مساجد مگر باوجود اس کے قرآن کریم ان کو مشرک قرار دیتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم تو حید کا جو مفہوم لیتا ہے وہ وہ نہیں جو عام طور پر دنیا میں سمجھا جاتا ہے۔دنیا میں شرک کے معنے یہ لیے جاتے ہیں کہ بتوں کی پرستش کی جائے ، انسانوں کی طرف وہ باتیں منسوب کی جائیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔اس میں طلبہ نہیں کہ یہود کا ایک قلیل طبقہ ایسا تھا جو عزیر کو ابن اللہ سمجھتا تھا مگر وہ ایسا چھوٹا فرقہ تھا کہ اسے ساری قوم کی طرف منسوب ہی نہیں کیا جاتی سکتا۔جیسے مسلمانوں میں بھی فقراء کے بعض ایسے گروہ ہیں جو قبروں کی پوجا کرتے ہیں مگر ان کی تعداد چند سو یا چند ہزار سے زیادہ نہ ہوگی اور وہ اس قدر قلیل تعداد میں ہیں کہ ان کی باتیں مسلمانوں کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتیں۔اسی طرح یہود میں بھی نہایت محدود طبقہ ایسا تھا جو عز بر کو ابن اللہ کہتا تھا لیکن وہ مٹ گیا اور اس زمانہ میں ایسے لوگ یہود میں بالکل نہیں ہیں۔اسی لیے یہود قرآن کریم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے یہ غلط بات یہودیوں کی طرف منسوب کی ہے۔اسی طرح عیسائی بھی یہ