خطبات محمود (جلد 39) — Page 86
$1958 86 خطبات محمود جلد نمبر 39 یہود کے بارہ میں شرک رکھا گیا ہے۔جو قوم یہ خیال کر لیتی ہے کہ ہم اپنی ہدایت کا سامان خود کر سکتے ہیں اور ہمارے علماء ہمیں غلط رستے سے بچانے کے لیے کافی ہیں اُس کا یہ خیال أَرْبَابًا مِّنُ دُونِ اللہ قرار دینا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ حق اپنے لیے رکھا ہے کہ جب کوئی خرابی بندوں میں پیدا ہو وہ اُن کی ہدایت کا انتظام کرے۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہدایت کا کام بندے کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی جو کتاب ہم میں موجود ہے اُس سے ہمارے لیے ہدایت کا رستہ تلاش کر کے ہمیں بتا سکتے ہیں وہ شرک کرتا ہے۔اب بتاؤ کیا کوئی قوم دنیا میں ایسی ہے جو تو حید کا یہ مفہوم مھتی ہو کہ خدا تعالیٰ کو ہادی سمجھا جائے اور اُس کی طرف سے ہر وقت ہدایت کے دروازہ کو کھلا سمجھا جائے۔یہ وہ تو حید ہے جسے قائم کرنے کے لیے انبیاء دنیا میں آتے ہیں۔جب کسی قوم میں یہ خرابی پیدا ہو جائے کہ وہ اپنی ہدایت کے لیے الہام الہی سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھنے لگ جائے تو یہ اپنی ذات میں اس بات کے لیے کافی ہوتا ہے کہ نبی آ جائے۔جب بندے یہ کہیں کہ ہمارے لیے پہلے سے نازل شدہ کلام ہی کافی ہے اور ہم اپنے زور سے اس میں سے ہدایت نکالیں گے تو اس غلطی کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندے کو بھیج کر یہ بتا دے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔یہی عقیدہ انسان کو مشرک بنا دینے کے لیے کافی ہے۔جب کسی قوم میں یہ عقیدہ پیدا ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتی ہے کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے جو کچھ دینا تھا دے دیا اب اُس کی طرف سے مجھے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا اُسے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔توجہ تو وہی کرے گا جو یہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام موجود ہونے کے باوجود مجھے اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔جب کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہدایت کے لیے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج نہیں ہوں تو اُس کی کے دل سے محبت الہی بھی مِٹ جائے گی اور اس کی توجہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہٹ جائے گی اور یہی اس کی روحانی موت کا دن ہوگی۔جب یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہمارے علماء کافی ہیں، قرآن کریم عربی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنے ہمیں بتا سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کسی خاص ہدایت کی حاجت نہیں۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔جب بچہ روٹی کھانے لگ جائے تو پھر ماں کی چھاتیوں کی طرف اس کی توجہ نہیں رہتی لیکن جب تک وہ دودھ پیتا ہے اُس وقت تک ہر وقت وہ ماں کی گود میں رہتا ہے۔اسی طرح جب