خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 83

83 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ئیں۔یہ مدعا جو انبیاء لے کر آتے ہیں وہ نمایاں صورت میں توحید الہی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں جتنی خرابیاں اور تباہیاں آتی ہیں وہ تو حید کے نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آتی ہیں۔تمام گناہوں، تمام مُستیوں اور غفلتوں اور تمام مُجرموں کی جڑ شرک ہے۔منہ سے بیشک لوگ خدا تعالیٰ کو ایک کہتے ہیں مگر منہ سے کہنے اور عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔اجمالی ایمان کے لحاظ سے اس وقت بھی دنیا میں توحید کے ماننے والوں کی کثرت ہے مگر تفصیلی ایمان کے لحاظ سے اس وقت دنیا میں تو حید بہت کم ہے۔عیسائی بڑے زور سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ توحید کے قائل ہیں بلکہ میں نے بعض عیسائی مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں جن میں وہ مسلمانوں پر چی اعتراض کرتے ہیں کہ اُن کے اندر تو حید نہیں اور کہ اصل اور سچی تو حید اُن کے اندر ہی پائی جاتی ہے۔ہندوؤں میں سے آریہ سماجی تو عَلَى الْإِيمَان اِس بات کا اظہارا اپنی کتابوں میں کرتے ہیں کہ توحید کے صحیح حامل وہی ہیں اور دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے اندر تو حید نہیں۔تو جو لوگ بظاہر مشرک نظر آتے ہیں اگر ان کے محققین کی کتابیں دیکھی جائیں تو وہ بھی تو حید کے قائل نظر آتے ہیں۔بیجوں کی پوجا کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم بیشک بُتوں کی پوجا کرتے ہیں مگر اس لیے نہیں کہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ قائم رکھنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔مکہ کے مشرک جو سر سے لے کر پیر تک شرک میں ڈوبے ہوئے تھے قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب اُن پر یہ اعتراض کیا جاتا کہ تم مشرک ہو تو وہ جواب دیتے کہ ہم مشرک نہیں ، ہم تو ان بچوں کی پوجا اس لیے کرتے ہیں کہ لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلفی 2 تا کہ یہ ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کر دیں۔تو منہ کی توحید دنیا میں اکثر پائی جاتی ہے مگر باوجود اس کے قرآن کریم توحید پر زور دیتا ہی اور دوسری قوموں پر شرک کا الزام لگاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس تو حید کو قرآن کریم پیش کرتا ہی ہے وہ صرف زبانی اقرار کا نام نہیں۔اگر یہی تو حید ہوتی تو چاہیے تھا کہ جب مشرک کہتے کہ ہم بتوں کو خدا نہیں مانتے بلکہ اُن کی پرستش اس وجہ سے کرتے ہیں کہ لِيُقَرِّبُوْنَا إِلَى اللهِ زُلفى تو پھر قرآن کریم ان پر شرک کا الزام لگانا چھوڑ دیتا مگر ایسا نہیں قرآن کریم ان کو بدستور مشرک قرار دیتا تای ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کے جواب کو صحیح نہیں قرار دیا اور باوجود ان کے اد عالم کے اُن کو مشرک قرار دیا ہے۔پھر باوجود اس کے کہ عیسائی تو حید کا دعوی کرتے ہیں قرآن کریم اُن پر