خطبات محمود (جلد 39) — Page 73
$1958 73 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے تلوار لے کر تمہارے مقابلہ میں نکلے گا وہ میں ہوں گا۔4 نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ڈر گیا اور اس نے حملہ کا ارادہ ترک کر دیا۔تو نزاع اور اختلاف کی یہی علامت ہوا کرتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں قوم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کا رعب جاتا رہتا ہے۔لیکن اگر نزاع حقیقی نہ ہو بلکہ واقع میں کوئی انسان اپنا حق لینے کے لیے جھگڑ رہا ہو تو اس کے نتیجہ میں بزدلی پیدا نہیں ہوتی اور نہ قوم کا رُعب دنیا سے مٹتا ہے بلکہ ایسا کی انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔جس کی طرف لعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ کے الفاظ اشارہ کرتی ہے ہیں۔ایسے شخص کو یہ کبھی نہیں کہنا پڑتا کہ اگر یہ خلیفہ ہمارا مقابلہ نہ کرتا تو ہم ساری دنیا پر غالب آ جاتے۔گویا دوسرے الفاظ میں مولوی محمد علی صاحب نے اپنے متعلق اقرار کر لیا کہ وہ غالب نہیں آئے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم کمزور ہونے کے باوجود کامیاب ہو رہے ہیں اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہمارے ذریعہ سے اسلام کا نام پھیل رہا ہے۔پس یہ رمضان کے دن ذکر الہی کے دن ہیں۔ان دنوں سے فائدہ اُٹھاؤ اور سمجھ لو کہ اگر ذکر الہی کے نتیجہ میں تمہیں یہ دکھائی دے کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو رہا ہے تو تمہارا ذکر صحیح تھا کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ذکر کثیر کرو گے تو تم ضرور کامیاب ہو گے۔لیکن اگر تمہاری کوشش اور ذکر الہی کے باوجود اور تمہارے روزوں کے باوجود جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ قریب آجاتا ہے۔5 یہ نتیجہ نکلے کہ تمہیں کامیابی حاصل نہ ہو اور دشمن بڑھتا چلا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمہارے روزے بھی جھوٹے تھے، تمہارا ذکر بھی جھوٹا تھا اور تمہارا اتحاد بھی کی جھوٹا تھا۔ورنہ اگر تقوی کے ساتھ روزہ رکھا جائے اور صحیح طور پر ذکر الہی کیا جائے اور کوشش یہ کی جائے کہ ہمارے اندرلڑائی جھگڑا نہ ہو تو یقیناً اس کے نتیجہ میں بہادری اور جرات پیدا ہوتی ہے اور ایک ایک ہزار دشمن کے مقابلہ میں ایک ایک مسلمان نکل کھڑا ہوتا ہے۔دیکھ لو مسلمانوں کے مختلف ادوار میں ایسے ایسے نوجوان اسلام کی خدمت کے لیے نکلے ہیں جن کو آجکل ہم کھیل کود کے زمانہ والے کہتے ہیں لیکن انہوں نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔جب محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا تو اُس کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی اور پھر وہ اپنے ساتھ جو لشکر لایا وہ جلدی میں بھرتی کیا ہوا تھا کیونکہ اُس وقت مسلمان سپین اور سسلی وغیرہ میں بھی