خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 74

$ 1958 74 خطبات محمود جلد نمبر 39 لڑ رہے تھے اور خزانہ بالکل خالی تھا۔سب سے پہلے اُس کی اپنی ماں اور بیوی نے اپنے زیور بیچ کر سواریاں مہیا کیں اور پھر بادشاہ نے اپنے کچھ زیورات بیچ دیئے۔ولید بن عبدالملک ایک بہت نیک بادشاہ تھا۔اُس نے بڑی قربانی کی اور محمد بن قاسم کو سندھ کی طرف بھجوا دیا اور اُس نے دو ماہ کے اندراندر ملتان تک کا سارا علاقہ فتح کر لیا۔لیکن اس کے بعد جیسا کہ پہلے زمانہ میں ایک یزید پیدا ہوا تھا مسلمانوں کی بد قسمتی سے سلیمان بن عبدالملک ایک خبیث بادشاہ تخت نشین ہوا اور اُس نے اپنی ایک ذاتی عداوت کی بناء پر محمد بن قاسم کو میدانِ جنگ سے بلا لیا۔جب اس نے محمد بن قاسم کو واپس بلایا تو وہ ئو مسلم جو محمد بن قاسم کی وجہ سے اسلام لائے تھے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے کہا وہ تمہارا خلیفہ ہوگا ہمارا نہیں۔ہمارا تو بادشاہ ہے اور ہم لاکھوں آدمی لے کر اُس پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس لیے جب ی تک وہاں سے یہ اطلاع نہ آجائے کہ بادشاہ کے ارادے بد نہیں ہیں آپ وہاں نہ جائیں۔لیکن محمد بن قاسم جو ایک جوشیلا نوجوان تھا اُس نے کہا اے میرے دوستو! تم مجھے میرے ایمان سے نہ ور غلاؤ۔ہمارا ای ایمان یہ ہے کہ خلیفہ کی اطاعت کی جائے اور تم کہتے ہو کہ وہاں نہ جاؤ بلکہ یہ بھی کہتے ہو کہ ہم لشکر لے کر اُس پر حملہ کر دیں گے۔تمہارے لشکر چاہے مصر تک بھی فتح کر کے تیونس میں داخل ہو جائیں میں خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دوں گا؟ تمہارے لشکر مجھے دنیا کا بادشاہ بنا سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے سامنے میری کوئی مد نہیں کر سکتے۔جس کو ہم نے خلیفہ تسلیم کر لیا اور بادشاہ مان لیا وہ لاکھ نالائق سہی مگر ہم نے تو اُسے مان لیا ہے۔اُس کی لیاقت یا نالائقی اُس کی ذاتی چیز ہے۔بہر حال جب وہ تسلیم شدہ قانون کے ماتحت ہمارا حاکم بن گیا تو میں اگر اسے چھوڑوں گا تو تم قیامت کے دن مجھے نہیں بچا سکتے۔تمہارے پاس بیشک سات آٹھ لاکھ کا لشکر ہے اور کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے سارے کے سارے اسی بات پر تلے ہوئے ہیں کہ ہم شام پر جا کر حملہ کریں گے اور بادشاہ کو سزا دیں گے جس نے تمہارے جیسے آدمی کو جس نے ہم تک اسلام پہنچایا اور اسلام کو سندھ میں لا کر داخل کیا عین فتح کے وقت واپس بلا لیا لیکن میں اُس کا حکم ماننے سے انکار نہیں کر سکتا۔جب وہ واپس چلا تو اُس وقت سندھیوں کی زبان سے یہ الفاظ نکلے جو اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتے تھے کہ جس وقت سندھ میں اسلام کا سورج طلوع ہونے لگا تھا اُسی وقت اُس کے غروب ہونے کا وقت آ گیا۔چنانچہ جب محمد بن قاسم وہاں پہنچا تو سلیمان بن عبدالملک نے اپنے ایک درباری کو حکم دیا کہ وہ محمد بن قاسم کو