خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 72

$1958 72 خطبات محمود جلد نمبر 39 مانگ رہے بلکہ تنازعہ کر رہے ہو۔دیکھو! جب خلافت کے متعلق جھگڑا پیدا ہوا تو مولوی محمد علی صاحب نے یہی کہا کہ ہم تو اپنا حق پیش کرتے ہیں مگر پھر خود ہی انہوں نے لکھا کہ اگر خلافت کا سوال میاں صاحب نہ اُٹھاتے تو ہم ساری دنیا پر غالب آ جاتے۔گویا انہوں نے تسلیم کر لیا کہ اس کے نتیجہ میں اُن کی طاقت کمزور ہوگئی اور یہی تنازعہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔فرماتا ہے فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ تنازعہ کے نتیجہ میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا میں جوڑ عب حاصل ہوتا ہے وہ جاتا رہتا ہے۔پس اگر تمہارے اختلاف کے نتیجہ میں رُعب بڑھ جائے تو پھر تو سمجھ لو کہ تم نے کوئی اختلاف نہیں کیا۔لیکن اگر رعب کم ہو جائے تو سمجھ لو کہ تم نے اختلاف کیا تھا۔اور یہ جو تم کہ رہے ہو کہ ہم اختلاف نہیں کر رہے بلکہ حق مانگ رہے ہیں جھوٹ ہے۔دیکھو! سچے مومن کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پوری قوت کے ساتھ اُس کے مقابلہ کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔جب حضرت معاویہؓ حضرت علی کے خلاف لڑ رہے تھے تو انہیں پتا لگا کہ روم کا بادشاہ حملہ کر کے عرب میں داخل ہونا چاہتا ہے۔چونکہ مسلمانوں نے اُس کے لشکر کو جنگ میں شکست دی تھی اس لیے اُس نے ان کی باہمی خانہ جنگی کو دیکھتے ہوئے چاہا کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھائے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ جب اُس نے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا تو اُس کے دربار کا ایک پادری کھڑا ہو گیا اور اُس کی نے کہا حضور! ان مسلمانوں کے اختلاف کی طرف نہ جائیے۔یہ آپ کے حملہ کی خبر سن کر ا کٹھے ہو جائیں گے۔پھر کہنے لگا اچھا! میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔کچھ گتے منگوائیے اور انہیں چند دن بھوکا رکھ کر اُن کے آگے گوشت ڈالیے۔بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔جب ان کے آگے گوشت ڈالا گیا تو وہ اسی آپس میں لڑنے لگ گئے۔اس پر پادری نے کہا اب ایک شیر ان پر چھوڑ دیجیے۔جب شیر آیا تو وہ گئے اپنی لڑائی چھوڑ کر اُس پر جھپٹ پڑے اور اُسے بھگا دیا۔وہ پادری چونکہ اسلام کا دشمن تھا اس لیے اُس کی نے مسلمانوں کو گتوں سے تشبیہہ دی مگر بہر حال اُس نے کہا کہ آپ ان کے اختلاف کی طرف نہ جائیں۔بیشک یہ آپس میں لڑ رہے ہیں لیکن جب ان پر کوئی باہر سے حملہ آور ہوا تو وہ سب متحد ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب حضرت معاویہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اُسے کہلا بھیجا کہ گو میں حضرت علیؓ سے لڑ رہا ہوں لیکن اگر تم حملہ آور ہوئے تو سب سے پہلا جرنیل جو علی کی طرف 09