خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 65

$ 1958 65 خطبات محمود جلد نمبر 39۔چونکہ نواب اور رئیس تھا اڑ گیا اور کہنے لگا مرزا صاحب! اگر آپ مجھے کسی اور کی معرفت کہلا بھیجتے کہ مجھے گھوڑا دے دو تو ایک نہیں میں دس گھوڑے بھی دے دیتا مگر آپ نے حکم دیا ہے تو اب چاہے آپ میری ساری جائیداد تباہ کر دیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں میں گھوڑا نہیں دوں گا۔چنانچہ انہوں نے سیٹلمنٹ (SETTLEMENT) میں اُس کی تمام جائیداد اُس کے رشتہ داروں کے نام لکھ دی اور اُس کو تباہ کر دیا۔مولوی صاحب کہنے لگے وہ اب تک غریب چلے آتے ہیں حالانکہ پہلے وہ بہت ہی صاحب رسوخ تھے۔غرض ان کے خاندان میں ہماری وہ پھوپھی بیاہی گئی تھیں اور ہمارے ہانی دادا کی ناپسندیدگی کے باوجود بیاہی گئی تھیں۔مرزا اعظم بیگ صاحب جو اس خاندان کے مورث اعلیٰ کی تھے انہوں نے ہمارے دادا کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم قادیان دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ چغتائی خاندان کے مغل تھے اور ہم برلاس خاندان کے ہیں اور برلاس چغتائیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں۔پرانے زمانہ میں یہ طریق رائج تھا کہ اگر کوئی کہے کہ ہم آپ کا گاؤں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم آپ کی لڑکی لینا چاہتے ہیں۔جب مرزا اعظم بیگ صاحب نے یہ پیغام بھیجا تو ہمارے دادا جلال میں آگئے اور کہنے لگے تم چغتائیوں کو بھی یہ جرات ہو سکتی ہے کہ ہم سے لڑکیاں مانگو۔جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہمیں نہیں منظور۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہمارے باپ کے غرور کا ہی یہ نتیجہ نکلا کہ ان کی وفات کے بعد ہماری تین لڑکیاں اُن کے خاندان میں بیاہی گئیں۔جن میں سے ایک تو یہی ہماری پھوپھی تھیں اور ایک اور چچا کی لڑکی تھی۔اس طرح اُن کے گھر میں ہماری لڑکیوں کا اچھا خاصا اجتماع ہو گیا۔پھر نہ صرف ہماری لڑکیاں ہی اُن کے ہاں گئیں بلکہ ہماری جائیدادیں بھی اُن کے قبضہ میں جانی شروع ہوئیں۔یہاں تک کہ قادیان کے سوا ہماری ساری جائیداد ان لوگوں کے پاس چلی گئی۔چنانچہ راجپورہ جو میں نے بعد میں ہیں ہزار روپیہ میں خریدا وہ اُنہی لوگوں کے پاس چلا گیا تھا۔پھر محلہ دارالرحمت جہاں بنا ہے وہ حصہ بھی اُن لوگوں کے پاس چلا گیا تھا۔یہ جائیداد ان کے پڑپوتے مرزا اکرم بیگ نے ایک سکھ کے پاس اٹھارہ ہزار روپیہ میں بیچ دی تھی جو بعد میں حق شفعہ کے ذریعہ ہم نے واپس لی۔مرزا اکرم بیگ کے والد مرزا افضل بیگ صاحب ایک ریاست میں سپر نٹنڈنٹ پولیس تھے اور ناچ گانے کا انہیں شوق تھا۔شراب کی بھی عادت پڑی ہوئی تھی مگر آخر میں انہوں نے ان تمام