خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 64

خطبات محمود جلد نمبر 39 64 $1958 عمر میں وہ بیعت کے لیے تیار ہو گئے اور ( دسمبر 1930 ء ) انہوں نے بیعت کر لی۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان تھا کہ ہماری تائی صاحبہ نے بھی میری بیعت کر لی اور کی مرز اسلطان احمد صاحب نے بھی میری بیعت کر لی۔ہماری تائی صاحبہ کے احمدی ہونے میں بڑا دخل میرزا احسن بیگ صاحب کا تھا۔وہ ان کی بہن کے بیٹے تھے۔ان کی ایک بہن اعظم آباد میں بیاہی ہوئی تھی اور اُس کے دو بیٹے تھے۔ایک مرزا اسلم بیگ صاحب اور دوسرے مرزا احسن صاحب۔مرزا احسن بیگ صاحب ہمارے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔سب سے پہلے اُن کی میرے ساتھ دوستی ہوئی اور پھر انہوں نے اُسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔بعد میں ریاست بوندی میں ان کو بیس ہزار ایکڑ زمین ملی۔چونکہ ریاست آباد نہیں ہوئی تھی اس لیے ریاست کے حکام نے بعض لوگوں کو بڑے بڑے علاقے دے دیئے تھے کہ ان کو آباد کرو۔آخر میں ریاست کی نے کچھ زمین واپس بھی لے لی کیونکہ وہ اسے آباد نہ کر سکے مگر پھر بھی چار پانچ گاؤں ان کے پاس رہ گئے۔اب ان کے ایک بیٹے وہاں کام کرتے ہیں۔گو ادھر آ جانا اُن کے لیے مبارک ہے مگر انہیں لالچ ہے کہ پانچ گاؤں کیسے چھوڑوں۔اگر میں پاکستان آ گیا تو پیچھے گورنمنٹ یہ جائیداد ضبط کرلے گی۔اس لیے وہ وہیں بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی ماں ایک بڑی مخلص احمدی تھی اور اُن کا باپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا تھا۔غرض تائی صاحبہ کی یہ بہن اعظم آباد میں بیاہی گئی تھیں اور اعظم آباد والے اپنے آپ کو بڑا رئیس سمجھتے تھے۔سارا شاہدرہ اُن کے پاس تھا۔مرزا اعظم بیگ صاحب جو اُن کے بڑے ہیڈ تھے وہ سب سے پہلے ہندوستانی تھے جو سیٹلمنٹ آفیسر بنے۔اس سے پہلے صرف انگریز ہی اس عہدہ پر پہنچتے تھے۔پھر وہ کابل میں بھی رہے اور وہاں ایمبیسی میں ان کو بڑے عہدہ پر رکھا گیا۔بعد میں وہ ہزارہ میں سیٹلمنٹ آفیسر بن گئے۔وہاں انہوں نے اپنی امارت کے گھمنڈ میں بڑے بڑے ظلم بھی کیے۔چنانچہ ایک دفعہ میں کشمیر سے واپس آ رہا تھا تو مولوی سید سرورشاہ صاحب نے جو ہزارہ کے ہی رہنے والے تھے مجھے سنایا کہ جب مرزا صاحب یہاں سیٹلمنٹ آفیسر بن کر آئے تو انہوں نے اپنے غرور میں فلاں رئیس کو کہا کہ تمہارا گھوڑا مجھے بہت پسند آیا ہے وہ مجھے بھیج دو اور پھر کہا کہ دیکھنا یہ گھوڑا آج شام تک میرے پاس پہنچ جائے۔مولوی سرور شاہ صاحب نے بتایا کہ وہ رئیس اتنا مالدار تھا کہ سارا علاقہ اُس کے پاس تھا مگر جب انہوں نے اُس کو حکم دیا تو وہ بھی