خطبات محمود (جلد 39) — Page 66
66 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 عادتوں سے توبہ کر لی اور قادیان آگئے۔بیعت کے بعد وہ ایک دفعہ بیمار ہوئے اور علاج کے لیے لاہور گئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ اگر آپ تھوڑی سی شراب پی لیں تو آپ بچ سکتے ہیں۔وہ کہنے لگے ایک دفعہ میں نے شراب سے توبہ کر لی ہے اب میں نہیں پیوں گا۔چنانچہ وہ مر گئے لیکن انہوں نے شراب کو نہیں چھوا۔غرض بیعت کے وقت جو انہوں نے عہد کیا تھا اُس پر وہ پورے اُترے لیکن ان کا بیٹا اچھا نہ نکلا۔اُس نے دارالرحمت والی زمین ایک سکھ کے پاس بیچ دی تھی۔شیخ مختار احمد صاحب ایک غیر احمدی بیرسٹر تھے جو ہم سے بہت محبت رکھتے تھے۔اللہ اُن کی مغفرت فرمائے انہوں نے مجھے لکھا کہ آپ کی اتنی قیمتی جائیداد ہے جوا کرم بیگ نے فلاں سکھ کو اٹھارہ ہزار روپیہ میں دے دی ہے۔یہ بڑی قیمتی جائیداد ہے۔اگر آپ اٹھارہ ہزار روپیہ کا بندوبست کر لیں تو یہ جائیداد آپ واپس لے لیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت ہی قیمتی جائیداد تھی۔چنانچہ بعد میں ہم نے اس سے پانچ لاکھ روپیہ کمایا۔مگر اُس وقت میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔میں نے کہا میرے پاس اتنار و پیہ کہاں ہے۔انہوں نے لکھا کہ بارہ ہزار روپیہ کسی نے میرے پاس امانت رکھا ہوا ہے وہ میں آپ کو دے سکتا ہوں۔آپ بعد میں مجھے دےدیں صرف چھ ہزار روپیہ کا آپ کسی طرح انتظام کر لیں۔چنانچہ ایک دوست نبی بخش صاحب کشمیری امرتسر کے تھے۔میں نے حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کو ان کے پاس بھیجا۔انہوں نے انہیں تحریک کی کہ وہ مجھے کچھ روپیہ قرض کے طور پر دے دیں۔چنانچہ دوسرے دن ایک لفافہ اُن کی طرف سے آیا جس میں تین ہزار روپیہ تھا اور ساتھ لکھا تھا کہ یہ تین ہزار روپیہ میرے پاس تھا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے تحریک کی تھی جس پر میں یہ روپیہ آپ کو بھیج رہا ہوں۔جب آپ کو تو فیق ہو مجھے واپس کر دیں۔اُسی دن ڈاکٹر فضل کریم صاحب کا افریقہ سے خط آیا کہ میں سترہ سو روپیہ آپ کو بھجوا رہا ہوں۔وہ غالبا کسی جنگ پر گئے تھے اور اُن کی تنخواہ جمع تھی جو بعد میں انہیں ملی اور انہوں نے مجھے بھجوا دی۔اس طرح چار ہزار سات سو روپیہ ہو گیا اور بارہ ہزار روپیہ شیخ مختار احمد صاحب بیرسٹر نے دیا۔اب صرف ایک ہزار تین سو کی کمی رہ گئی تھی وہ میں نے اپنی بیویوں کے زیورات بیچ کر پوری کر لی اور زمین خرید لی۔اس زمین پر دار الرحمت کا محلہ آباد ہوا۔اسی طرح جس زمین پر محلہ دارالفضل آباد ہے یہ زمین بھی میں نے مرزا اکرم بیگ سے لی۔انہوں نے اس زمین کا ایک ہندو سے ڈیڑھ لاکھ میں سودا کیا تھا۔میں نے خیال کیا کہ اٹھارہ ہزار تو