خطبات محمود (جلد 39) — Page 294
294 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 پابندیاں عائد ہیں جن کی وجہ سے ممکن ہے ہمیں کھانے میں کچھ رد و بدل کرنا پڑے۔مثلاً کچھ دن گوشت کے ناغہ کے مقرر ہیں۔افسران جلسہ سالانہ حکومت کے افسروں سے مل کر کوشش تو کرتی رہے ہیں کہ ناغہ کے دنوں میں گوشت کی اجازت مل جائے لیکن اگر اجازت نہ ملی تو دال اور اجی آلوؤں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مچھلی کا انتظام کر لیں لیکن اتنی مچھلی بھی نہیں مل سکتی جو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لیے کافی ہو سکے۔آٹے کے متعلق حکومت نے وعدہ کیا ت ہے کہ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ہمارا خرچ زیادہ ہے تو وہ گندم کی مقدار بڑھا دیں گے مگر سر دست جو اجازت انہوں نے دی ہے ہمارا خرچ اُس سے زیادہ ہوتا ہے۔غرض کھانے میں اگر دوستوں کو کوئی تکلیف ہو تو اُسے برداشت کرنا چاہیے اور اس کو ثواب سمجھنا چاہیے۔یہ بھی ایک رنگ کی قربانی ہی ہے۔اگر گورنمنٹ گوشت کی اجازت نہ دے تو دال اور آلوؤں پر گزارہ کرنا چاہیے۔اور اگر گندم کی اجازت نہ دے تو دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی پر ہی گزارہ کر لینا چاہیے۔قادیان میں بھی بعض اوقات گندم کے حصول میں ہمیں مشکلات پیش آ جاتی تھیں باہر سے گندم لانے کی اجازت ہوتی تھی تو میں اعلان کر دیا کرتا تھا کہ باہر سے جو احمدی آئیں وہ آٹا یا غلہ وغیرہ ساتھ لائیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب مہمان اُ رہے تھے تو ایک احمدی دوست بوری اٹھائے ہوئے آئے۔وہ امیر آدمی تھے اور ڈاکٹر تھے۔میں نے کہا ڈاکٹر صاحب! آپ نے یہ بوری کیسی اٹھائی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا آپ نے جو کہا تھا کہ غلہ لے آؤ میں آٹا لے آیا ہوں تاکہ جلسہ کے کام آ جائے۔چنانچہ انہوں نے میرے سامنے ہی آٹا ایک طرف اُتار کر رکھ دیا۔اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔بہر حال بڑے اخلاص سے لوگ آٹا ساتھ لے آتے تھے۔لیکن اب تو باہر سے گندم لانا بھی منع ہے کیونکہ ہمارے ملک میں غلہ کی بہت کمی ہے۔حکومت کوشش تو کر رہی ہے کہ پیداوار زیادہ ہو جائے لیکن وہ تو اگلے سال ہی ہوسکتی ہے اس سال کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اگلے سال کے حالات بھی اس وقت تک تو خراب ہی نظر آتے ہیں کیونکہ ابھی تک بارش نہیں ہوئی۔بارش کا یہ اصول ہے کہ اگر دس فروری سے پہلے پہلے ہو جائے تو غلہ زیادہ ہوتا ہے اور اگر بعد میں ہو تو نئی شاخ نہیں نکلتی اور دانہ موٹا ہو جاتا ہے۔حالانکہ دانے کی زیادتی شاخ کے پیدا ہونے سے ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کر دے اور دس