خطبات محمود (جلد 39) — Page 249
خطبات محمود جلد نمبر 39 249 $1958 تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اللہ اکبر کا رستہ دکھایا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمان اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ورنہ اگر خدا سب سے بڑا ہے تو دنیا کی حکومتیں بھی تو اس سے نیچے ہوئیں۔آخر سب سے بڑے کے یہ معنے تو نہیں کہ وہ فلاں جولا ہے سے بڑا ہے، سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں نانبائی سے بڑا ہے، سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں نائی سے بڑا ہے ، سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں زمیندار سے بڑا ہے، سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں تحصیلدار سے بڑا ہے،سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں ڈپٹی کمشنر سے بڑا ہے، سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں گورنر سے بڑا ہے،سب سے بڑے کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ وہ فلاں گورنر جنرل سے بڑا ہے۔سب سے بڑے کے معنوں میں ساری دنیا کی حکومتیں بھی شامل ہیں اور جب انسان اللہ اکبر کہتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ ساری دنیا کی حکومتوں سے بڑا ہے۔لوگ کس طرح منتیں کرتے ہیں کہ ہماری سفارش کر دو لیکن اگر وہ خدا کو بڑا سمجھیں تو یہ بات کیوں پیدا ہو؟ مجھے یاد ہے ہمارے ایک بہت مخلص دوست تھے جو ڈاکٹر تھے۔اُن پر قیام پاکستان سے پہلے ایک دفعہ کوئی کیس چل پڑا۔وہ شوری میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں تو سمجھتا ہوں کہ خلیفہ اسیح کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ فوراً گورنر کے پاس جائیں اور اُن کے سامنے میرے حالات بیان کریں۔میں نے کہا میں ایسی خلافت پر لعنت بھیجتا ہوں جس کا کام یہ ہو کہ تمہارے لیے گورنر کے دروازہ پر جاؤں۔خیر لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے اُٹھ کر معافی مانگ لی کہ مجھے کی سے غلطی ہوگئی ہے۔وہ پاکستان کے قیام تک زندہ تھے۔پاکستان کے قیام کے بعد فوت ہوئے ہیں۔تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ دیکھو! میں سب سے بڑا ہوں۔اگر تمہیں کوئی ضرورت پیش آئے یا تم کسی مشکل میں گرفتار ہو جاؤ تو تم میری طرف آؤ میں تمہاری ہر ضرورت پوری کر سکتا ہوں اور تمہاری ہر مصیبت کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ کے لیے باہر تشریف لے گئے۔جب آپ واپس آئے تو ایک شخص جس کا بھائی مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا آپ کے پیچھے پیچھے آیا تا کہ اسے کوئی موقع ملے تو آپ کو قتل کر دے لیکن مدینہ تک اُسے کوئی موقع