خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 248

$1958 248 خطبات محمود جلد نمبر 39 مرزا صاحب بھی کسی مُرید کے کھیت پر گئے تھے؟ کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا منہ سے کہہ دینا کہ میں عرش پر جا کر سجدہ کرتا ہوں کوئی معنی نہیں رکھتا۔کہنے کو تو وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہوں لیکن اصل سوال عمل کا ہے۔مرزا صاحب سارا دن اندر بیٹھے رہتے تھے اور مقررہ اوقات پر باہر تشریف لاتے تھے۔ملاقات کرنے والے جن میں بعض دفعہ بڑے بڑے امراء بھی ہوتے تھے دو دو دن تک دروازہ پر بیٹھے رہتے تھے۔کیا آپ کے پیر کی بھی یہی حالت تھی؟ اگر یہی حالت تھی تب تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ واقع میں انہوں نے خدا تعالیٰ کی بڑائی دیکھ لی تھی واقع میں وہ کی عرش پر سجدہ کیا کرتے تھے لیکن اگر ان میں زمین پر سجدہ کرنے والوں کے برابر بھی تو کل نہیں تھا تو عرش پر سجدہ کرنے والے کیسے بن گئے؟ پھر میں نے کہا دیکھیے ! حضرت صاحب کے پہلے خلیفہ حضرت مولوی نورالدین صاحب تھے اور اب میں خلیفہ ثانی ہوں لیکن حضرت خلیفہ المسیح الاول نے کبھی کسی سے کچھ نہ مانگا اور نہ میں کسی سے سوال کرتا ہوں۔کئی لوگ میرے پاس آ آ کر اصرار بھی کرتے ہیں کہ آپ ہم کو اپنی ضرورت بتا دیں ہم اُس کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔تم جو کچھ دے جاؤ اپنی خوشی سے دے جاؤ۔مگر میرا یہ کہنا کہ میری فلاں ضرورت ہے اُس کو پورا کر دو تو چاہے تمہارے کہنے پر ہی میں ایسا کہوں بہر حال یہ سوال ہی ہوگا اور میں سائل نہیں بننا چاہتا۔کلکتہ کے ایک دوست تھے وہ اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور خوب چندہ دیتے ہیں۔اُن کی بیوی بھی مخلص ہے۔اُن کا موٹروں کا کارخانہ تھا۔ایک دفعہ کہنے لگے جب کسی موٹر کے پرزہ کی ضرورت پیش آجائے تو آپ ہمیں حکم دے دیا کریں۔میں نے کہا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔آپ کوئی چیز بھیج دیں تو بھیج دیں اگر ہمارے کام کی ہوگی تو استعمال کرلیں گے ور نہ پھینک دیں گے لیکن میں خود نہیں بتاؤں گا کہ مجھے فلاں چیز کی ضرورت ہے۔ایک دفعہ وہ اس بات پر کچھ خفا بھی ہو گئے لیکن میں نے اُن کے اصرار کے باوجود کبھی اپنی ضرورت نہیں بتائی۔اب تو وہ کوئی اور کام کرتے ہیں مگر چندہ دینے میں وہ بہت مخلص ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن لوگوں کو ذرا بھی خدا تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے وہ ایسے متوکل ہو جاتے ہیں کہ ان کو کسی چیز کی پرواہی نہیں رہتی۔وہ دنیا کے لوگوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ دنیا کے لوگ اُن کے محتاج ہوتے ہیں۔