خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 11

11 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ایک دفعہ انہیں یکدم آرڈر آ گیا کہ ان کو عہدہ میں ترقی دی جاتی ہے اور تنخواہ اتنی بڑھائی جاتی ہے۔اس کے بعد ان کی تنخواہ میں جو بڑھوتی ہوئی وہ ساری کی ساری وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت صاحب کو جو خط لکھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مجھے پڑھنے کے لیے دیا۔میں نے پڑھ کر بتایا کہ یہ خط چودھری رستم علی صاحب کا ہے اور ان انہوں نے لکھا ہے کہ میں سو روپیہ تو پہلے ہی بھیجا کرتا تھا لیکن اب میری تنخواہ میں اسی روپے کی ترقی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض حضور کی دعاؤں کے طفیل ہوئی ہے اور آپ کے لیے ہوئی ہے لیے اب میں آپ کو ایک سو اسی روپے ماہوار بھیجا کروں گا۔میں اس بڑھوتی کا مستحق نہیں ہوں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں پہلی تنخواہ کا بھی مستحق نہیں تھا۔وہ بھی اللہ تعالیٰ مجھے آپ کی خاطر ہی دے رہا ہے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کو جو مالدار دیئے تھے وہ بھی کیسی کیسی قربانیاں کرتے تھے اور پھر اُن قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔بیشک آخر میں اُن میں بگاڑ پیدا ہوا لیکن شروع شروع میں وہ پشاور میں نہایت کامیاب وکیل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک مقدمہ ہوا تو آپ نے خواجہ صاحب کو لکھا کہ اس اس طرح ایک مقدمہ ہے جس میں ایک احمدی وکیل کی نگرانی کی ضرورت ہے۔اس پر آپ اپنی کامیاب وکالت چھوڑ کر پشاور سے گورداسپور آ گئے۔گو ایک بات ضرور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ آخر شاید گرے بھی اسی کی وجہ سے تھے اور وہ یہ کہ جب ان پر تنگی آتی تھی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے روپیہ مانگ لیا کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں شاید یہی کمزوری بعد میں ان کی خرابی کی وجہ ہوئی۔ورنہ انہوں نے بھی بہت قربانی کی تھی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں ان کی قربانی اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ تھی۔مولوی محمد علی صاحب کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بڑی قربانی کی۔انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور کی پروفیسری چھوڑی تھی اور اُس وقت پروفیسری کی تنخواہ اسی نوے روپے ماہوار ہوا کرتی تھی اور انہوں نے قادیان آ کر انجمن سے ہیں روپیہ ماہوار تنخواہ لی لیکن حقیقت میں ان کو بیس نہیں بلکہ ایک سو بیس روپیہ ماہوار تنخواہ ملا کرتی تھی۔ہمیں روپے انجمن کی طرف سے ملتے تھے اور