خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 10

$1958 10 خطبات محمود جلد نمبر 39 تھے۔قادیان آئے تو ان کی یہ حالت تھی کہ وہ مہمان خانہ میں بیٹھ جاتے اور کوئی لڑکا آتا تو اُسے سیر بین دکھا دیتے اور وہ آنہ یا دونی دے دیتا اور اس میں گزارہ کر لیتے۔کچھ عرصہ تک وہ پھیری کا کام بھی کرتے رہے۔جب وہ لوگ اس طرح گزارہ کر لیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نوجوان اس طرح گزارہ نہ کرسکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لوگ اپنا وسیع کاروبار چھوڑ کر قادیان آگئے تھے اور وہاں پر کسی نہ کسی طرح اپنی روٹی کما لیتے تھے اور گزارہ کر لیتے تھے۔جو مال دار لوگ اُس زمانہ میں آئے اُن کا بھی یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنے سب مال لگا دیئے۔مثلاً سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی تھے۔ان کی تجارت بڑی وسیع تھی۔مگر انہوں نے اپنا سارا روپیہ آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دے دیا۔بعد میں جب وہ دیوالیہ ہو گئے تو ان کے ایک دوست سیٹھ لال جی وال جی تھے اور وہ بھی بہت بڑے تاجر تھے۔سیٹھ صاحب نے انہیں تحریک کی کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دعا کرایا کریں اس میں بڑی برکت ہوتی ہے۔اور پھر کہا میں آپ کو ماہوار نذرانہ کے طور پر ایک بڑی رقم بھجوایا کرتا تھا آپ بھی انہیں نذرانہ بھجوایا کریں۔چنانچہ انہوں نے ساڑھے تین سو روپیہ ماہوار بھجوا نا شروع کر دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کی روحانیت پائی جاتی تھی اور نہ وہ سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی کو کہہ دیتے کہ آپ نے دعا کرا کے کیا لیا؟ آپ کا تو پہلا کا روبار بھی نہ رہا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ انہیں جو برکتیں ملی ہیں وہ روحانی ہیں اور اُن کو بھی روحانی برکتیں ہی ملیں گی۔اس لیے انہوں نے سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی کی نصیحت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔پھر ہمارے ایک دوست چودھری رستم علی صاحب تھے۔پہلے وہ سپاہی تھے۔پھر کا نشیبل ہو گئے۔پھر سب انسپکٹر بنے۔پھر پراسیکیوٹنگ (PROSECUTING) انسپکٹر بنے۔اُس وقت تنخواہیں بہت تھوڑی تھیں۔آجکل تو ایک سپاہی کو مہنگائی الاؤنس وغیرہ ملا کر قریباً ساٹھ روپیہ ماہوارمل جاتے ہیں لیکن اُن دنوں سپاہی کو غالباً گیارہ روپے، تھانیدار کو چالیس روپے اور انسپکٹر کو پچھتر ہے سو روپے ملتے تھے اور پراسیکیوٹنگ (PROSECUTING) افسر کوسو سے کچھ زیادہ ملتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ وہ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوا دیا کرتے تھے۔