خطبات محمود (جلد 39) — Page 211
$1958 211 خطبات محمود جلد نمبر 39 صرف سلسلہ کی وجہ سے ہی عزت اور شہرت نصیب ہوئی ہے۔فلسطین میں جو ہمارے مبلغ رہے ہیں ان کو بھی سلسلہ نے ہی تعلیم دلائی تھی اور پھر وہاں جا کر بھی ان کی بڑی عزت ہوئی۔جس دن انہوں نے وہاں سے روانہ ہونا تھا اسرائیل کے پریذیڈنٹ نے اپنے سیکرٹری کے ذریعہ انہیں پیغام بھجوایا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ واپس جا رہے ہیں۔آپ جانے سے پہلے ایک دفعہ مجھ سے ضرور مل لیں۔چنانچہ وہ ملنے کے لیے گئے اور جب باتیں ہو چکیں تو وہ اپنے کمرہ سے باہر انہیں چھوڑنے کے لیے آیا اور جب انہوں نے مصافحہ کیا تو سرکاری فوٹو گرافر جو اس نے کی سے مقرر کیا ہوا تھا اُس نے فوراً دونوں کا فوٹو لے لیا اور پھر سارے شام اور مصر اور امریکہ کے اخباروں میں اسے شائع کرایا گیا اور لکھا گیا کہ اسلامی مبلغ اسرائیل کے پریذیڈنٹ سے مصافحہ کرر ہے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب شام گئے تو وہاں لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ اسرائیل سے مل گئے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں۔وہ کہنے لگے اخباروں میں تو تصویر میں چھپی ہیں کہ آپ کا مبلغ کی اسرائیل کے پریذیڈنٹ سے مصافحہ کر رہا ہے۔دراصل اس نے چالا کی کی تھی۔بظاہر تو اس نے ہمارے مبلغ کو ملنے کے لیے بلوایا۔مگر در پردہ اُس کا مقصد یہ تھا کہ ہم مصافحہ کے وقت ان کا فوٹو لے لیں گے اور تمام ممالک میں یہ پروپیگنڈا کریں گے کہ اسلامی مبلغ اور اسرائیل میں دوستی ہے۔چنانچہ جب وہ انہیں باہر چھوڑنے آیا اور انہوں نے مصافحہ کیا تو سرکاری فوٹوگرافر نے فوٹو لے لیا اور اسے ہندوستان اور مصر اور شام اور امریکہ میں پھیلایا گیا۔تو دیکھو ہمارے مبلغ کا کتنا بڑا اعزاز ہوا کہ اسرائیل کا پریذیڈنٹ جو بادشاہ کے طور پر تھا اُس نے خود ملاقات کی خواہش کی اور پھر مصافحہ کے فوٹو اُس نے تمام اخبارات میں شائع کروائے۔اسی طرح ایران کا بادشاہ لندن گیا تو اس نے ایک اعلیٰ درجہ کا کمپاس مسجد کے لیے تحفہ کے طور پر بھجوایا۔ڈاکٹر سکارنو انڈونیشیا کا پریذیڈنٹ ہے مگر اس نے ہمارے مبلغ کا اتنا اعزاز کیا کہ جب اس نے قرآن کریم کا ترجمہ تحفہ کے طور پر پیش کیا تو ڈاکٹر سکا رنو کھڑا ہو گیا۔اس نے قرآن کریم کو چھو ما، اُسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر اسے دیکھ کر کہا کہ آپ لوگوں نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت کی ہے۔پھر جب وہ لاہور میں آیا اور گورنر پنجاب کی طرف سے اُس کی دعوت ہوئی تو اس نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا کہ کیا احمدی مبلغ کو بھی بلایا گیا ہے یا نہیں؟ اُس نے کہا نہیں۔وہ کہنے لگا منتظمین کو