خطبات محمود (جلد 39) — Page 210
210 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 بڑھایا جائے۔بعض لکھتے ہیں کہ اس کم خرچ میں لوگوں پر ہماری شان ظاہر نہیں ہوتی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف انہی کو اپنی شان دکھانے کی ضرورت ہے؟ حضرت معین الدین چشتی اور دوسرے اولیاء کی کوئی شان نہیں تھی ؟ انہوں نے تو غربت اور مسکنت میں ہی اپنی عمر گزار دی مگر ہمارا مبلغ لکھتا ہے کہ ہمیں خرچ کم ملتا ہے اسے بڑھایا جائے۔حالانکہ اگر غور کیا جائے تو جہاں تک غیر ممالک میں جانے کا سوال ہے ایمبیسی میں کام کرنے والے جتنے آدمی ہیں سب غیر ممالک میں رہتے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ ان کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے اور ہمارے مبلغ کو کم ملتی ہے۔ورنہ جہاں تک وطن سے باہر رہنے کا سوال ہے اس میں ہمارا مبلغ اور ایمبیسی میں ملازمت اختیار کرنے والا نو جوان برابر ہوتے ہیں بلکہ ہمارے مبلغوں کو جو گزارہ ملتا ہے اس میں تو کئی غیر احمدی بھی احمدیت کی تبلیغ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ہر سال مجھے بعض غیر احمدیوں کے ایسے خطوط آ جاتے ہیں کہ ہم اس بات کے لیے تیار ہیں کہ غیر ممالک میں احمدیت کی تبلیغ کریں۔آپ ہمیں اپنے روپیہ پر باہر بھجوا دیں۔غرض غیر ممالک میں جانے کے لیے تو لوگ ترستے رہتے ہیں اور ہمارا مبلغ مفت میں یورپ اور امریکہ پہنچ جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی دفعہ یورپ گیا تو میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا ایک لڑکا بھی اُن دنوں وہاں گیا ہوا تھا۔میں نے سنا کہ وہ سلسلہ کے خلاف باتیں کرتا ہے۔میں نے ایک دوست سے جواب بیرسٹر ہیں اور سرگودھا میں کام کرتے ہیں اور اُن دنوں تعلیم کے لیے وہاں گئے ہوئے تھے پوچھا کہ بات کیا ہے اور وہ سلسلہ کے خلاف کیوں باتیں کرتا ہے؟ اُس نے کہا کہ اُسے اس بات پر غصہ ہے کہ سلسلہ نے نوابوں کو ذلیل کر دیا ہے۔چنانچہ اس نے ایک مبلغ کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے جب اس جیسے ذلیل آدمی کو مبلغ بنا کر بھیج دیا تو اب بتاؤ کہ ہماری کیا عزت رہی ؟ وہ اس مبلغ کے متعلق سمجھتا تھا کہ وہ بہت ہی ذلیل آدمی ہے اور خیال کرتا تھا کہ جب انہوں نے فلاں شخص کو جو صرف انٹرنس پاس سے مبلغ بنا کر بھیج دیا ہے تو اب نواب تو ذلیل ہو گئے ان کی بھلا کیا عزت رہی ؟ گویا اسے یہ غصہ تھا کہ اتنے کم تعلیم یافتہ اور معمولی آدمی کولندن کیوں بھجوا دیا اور یہاں اس ملک میں کسی تی آدمی کا تبلیغ کے لیے جانا بڑی بھاری قربانی سمجھا جاتا ہے۔وہاں ایک شخص کو اس لیے ابتلا آ گیا کہ فلاں کو مبلغ بنا کر کیوں بھیجا گیا ہے اور ہمارا مبلغ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کر کے کوئی قربانی کر رہا ہے حالانکہ بیرونی ممالک میں ہمارے جس قدر مبلغ کام کر رہے ہیں ان سب کو