خطبات محمود (جلد 39) — Page 212
خطبات محمود جلد نمبر 39 212 $1958 کہہ دیا جائے کہ اُن کو بھی بلایا جائے۔چنانچہ گورنر کی طرف سے ان کو بھی شمولیت کی دعوت آ گئی۔اب دیکھو انڈونیشیا کے پریذیڈنٹ نے ہمارے مبلغ کا کتنا اعزاز کیا کہ ہمارے اپنے گورنر نے تو اسے نظر انداز کر دیا مگر اس نے کہا کہ جب مجھے بلایا ہے تو پھر انکو بھی بلایا جائے۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمارے مبلغ نے دین کی خدمت کر کے کوئی قربانی کی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس نے کوئی قربانی نہیں کی بلکہ خدا نے اس پر یہ احسان کیا کہ اُس نے اسے خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اعراب کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تم نے اسلام قبول کر کے ہم پر کوئی ای احسان نہیں کیا بلکہ خدا نے تم پر یہ احسان کیا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔4 اسی طرح انہیں غیر ممالک میں احمدیت کا مبلغ بنا کر سلسلہ نے ان پر احسان کیا ہے ورنہ ان کی حیثیتیں ہی کیا تھیں کہ وہ کسی غیر ملک میں جا سکتے۔ان کو تو شاید پاسپورٹ بھی نہ ملتا۔انہیں اگر پاسپورٹ ملا تو سلسلہ کے طفیل ملا اور اگر وہ غیر ممالک میں گئے تو سلسلہ کے طفیل گئے حالانکہ دوسرے لوگوں کو پاسپورٹ ملنے میں بھی ہزاروں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکن قونصل جنرل جس کی حیثیت ایک وزیر کی ہوتی ہے وہ ایک دفعہ لاہور میں مجھے ملنے کے لیے آیا اور کہنے لگا کہ اگر کوئی ایسی خدمت ہو جس کا میرے ساتھ تعلق ہو تو مجھے بتایا جائے میں اس کے متعلق اپنی پوری کوشش کروں گا۔میں نے کہا صرف ایک بات ہے اور وہ یہ کہ ہمارے مبلغوں کو امریکہ کا ویزا (Visa) ملنے میں وقتیں ہوتی ہیں۔کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہاں جتنے لوگ جاتے ہیں سب منگتے یا ہاتھ دیکھنے والے ہوتے ہیں اور اُن کو ہمارا ملک پسند نہیں کرتا۔ہم مبلغ صرف عیسائیوں کو سمجھتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ گر جا اُن کی مدد کر رہا ہے باقی جس قدر لوگ ہیں اُن کو ہم فقیر اور ارڈ پوپو 5 سمجھتے ہیں۔میں نے کہا ہم تو اپنی جماعت کے مبلغین کو با قاعدہ خرچ کی بھجواتے ہیں۔اس لیے ہمارے متعلق اس قسم کا کوئی خیال نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ اس نے اپنی حکومت کو اس بارہ میں چٹھی لکھی اور چند دنوں کے بعد اُس کی طرف سے جواب آ گیا جس کی ایک نقل اُس کی نے مجھے بھی بھجوادی۔اُس میں حکومت امریکہ نے لکھا تھا کہ ہم نے حکم دے دیا ہے کہ احمدی مبلغوں کے راستہ میں کسی قسم کی روک نہ ڈالی جائے کیونکہ ہمیں اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ جیسے پادریوں کو با قاعدہ گزارے ملتے ہیں اسی طرح احمدی مبلغین کو بھی ان کا سلسلہ خرچ دیتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد