خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 189

$ 1958 189 خطبات محمود جلد نمبر 39 کرنے کا بڑا شوق تھا ، مجھے ایک کتاب تلاش کرنے کے لیے کہا تھا۔میں نے بہت کوشش کی مگر مجھے وہ ای کتاب نہ ملی۔آخر بعض دوستوں نے بتایا کہ مولانا عبدالستار صاحب کہتی جو شریف مکہ کے بیٹوں کے استاد ہیں ممکن ہے اُن سے یہ کتاب آپ کو مل جائے چنانچہ میں اُن کے پاس گیا۔مولوی صاحب تھے تو وہابی مگر اپنے آپ کو ضیلی ظاہر کرتے تھے کیونکہ وہاں اُن دنوں وہابیوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔مولوی صاحب کو ملاقات کے درمیان میں میں تبلیغ بھی کرتا رہا۔وہ اطمینان کے ساتھ میری باتیں سنتے رہے۔جب میں خاموش ہوا تو وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ نے مجھ سے تو یہ باتیں کہہ دی ہیں کہیں کسی اور کو تبلیغ نہ کریں کیونکہ اگر آپ نے تبلیغ کی تو ممکن ہے لوگ جوش میں آ کر آپ پر حملہ کری دیں۔میں نے کہا آپ کس شخص کو تبلیغ کرنا سب سے زیادہ خطر ناک سمجھتے ہیں؟ انہوں نے ایک عالم کا نام لیا۔میں نے کہا میں تو اُسے ایک گھنٹہ تبلیغ کر کے آیا ہوں۔کہنے لگے پھر وہ کیا کہتا تھا؟ میں نے کہانی تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ بڑے غصہ اور جوش میں کہتا تھا آہ نہ ہوئی تلوار آہ نہ ہوئی تلوار۔اُس کے شاگرد جوش میں آتے تو وہ انہیں خاموش کرا دیتا اور کہتا کہ تم نہ بولو میں خود ہی جواب دوں گا۔پھر انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نصیحت آپ کو اس لیے کی ہے کہ آپ کے خلاف ایک اشتہار چھپا ہے اور اُس میں لکھا ہے کہ اگر انہیں حضرت مرزا صاحب کی صداقت پر یقین ہے تو خانہ کعبہ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے مباحثہ کر لیں۔اُن کا اس سے منشا یہ ہے کہ اگر بحث ہوئی تو عربوں میں کی چونکہ تعلیم کم ہے وہ جوش میں آکر آپ پر حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے۔میں نے کہا اس اشتہار پر دستخط کس کس کے ہیں؟ انہوں نے کہا دو آدمیوں کے دستخط ہیں۔ایک تو بھوپال کے کوئی مولوی محمد احمد صاحب ہیں جن کے دستخط ہیں۔میں نے کہا وہ تو میرے ماموں ہیں۔وہ ہمارے نانا جان مرحوم کی ہمشیرہ کے بیٹے تھے اور اس لحاظ سے ہمارے ماموں تھے )۔دوسرے دستخط بھوپال کے ایک رئیس کے ہیں جن کا نام خالد ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کو تو میں نے بلوا کر کہہ دیا ہے کہ تم کہیں جوش میں آ کر مباحثہ نہ کر بیٹھنا کیونکہ یہاں احمدیوں کی اتنی مخالفت نہیں جتنی اہلِ حدیثوں کی ہے۔میں خود اہلِ حدیث ہوں مگر اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتا اور شریف مکہ کے بیٹوں کو بھی مفت پڑھاتا ہوں تا کہ اُس کے خاندان کی امداد حاصل رہے۔پس تم خواہ مخواہ لوگوں کو اپنے خلاف کیوں اشتعال دلاتے ہو۔اگر تم اپنی جان کی سلامتی چاہتے ہو تو فوراً