خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 188

188 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 اُٹھنا پڑا۔اور آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنا ذلیل کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد میں ایک دفعہ بٹالہ کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا کہ شیخ یعقوب علی صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا لے آؤ۔چنانچہ وہ انہیں لے آئے مگر میں نے دیکھا کہ وہ ایک دروازہ سے داخل ہوئے اور دوسرے دروازہ سے نکل گئے۔میں نے بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ مولوی صاحب نے ملاقات کیوں نہیں کی؟ وہ کہنے لگے میں نے ان سے پوچھا تھا انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ان سے ملتے ہوئے شرم آتی ہے۔بڑے مرزا صاحب سے مل لیتا تو اور بات تھی مگر اب میں ان سے کیسے ملوں؟ یہ دل میں کہیں گے کہ میرے باپ کی تو ساری عمر مخالفت کرتا رہا اور اب مجھ سے ملنے آ گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اس طرح حجت تمام کی کہ ان کا ایک بیٹا چوری کے الزام میں پکڑا گیا جسے ہم نے چھڑوایا۔پھر وہ قادیان میں پڑھنے کے لیے بھی آیا۔یہ غالباً 1914 ء یا 1915ء کی بات ہے۔پھر اُن کا دوسرا بیٹا قادیان میں پڑھنے کے لیے آیا۔دو سال ہوئے وہ زندہ تھا اور میسور میں مقیم تھا۔وہ شروع میں عیسائی ہو گیا تھا جس پر مولوی محمد حسین صاحب نے کہلا بھیجا کہ بیشک اسے قادیان میں رکھیں اور تعلیم دلائیں۔میری سمجھ میں اب اتنی بات ضرور آ گئی ہے کہ احمدیت عیسائیت سے اچھی ہے۔ایک دفعہ میسور کی جماعت نے مجھے لکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک لڑکا ہے جس نے کی ایک عیسائی نرس سے شادی کی ہوئی ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں قادیان میں بھی پڑھتا رہا ہوں۔میں نے لکھا کہ وہ سچ کہتا ہے وہ میری خلافت کے ابتدائی ایام میں قادیان آیا تھا۔پہلے اس کا بھائی آیا تھا جو چوری کے الزام میں پکڑا گیا تھا مگر ہماری کوشش سے وہ رہا ہوا۔پھر یہ خود آیا۔یہ بھی عیسائی ہو چکا تھا جسے ہم نے عیسائیت سے بچایا۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ہمیں بڑے شکریہ کا خط لکھا پرم کہ آپ نے میرے ایک بیٹے کو قید سے بچایا ہے اور دوسرے کو عیسائیت سے۔میں آپ کا بڑا ممنون ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے اور اُن کو اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کیا کرتا ہے۔دشمن چاہتا ہے کہ وہ ہلاک ہو جائیں اور وہ ان کی تباہی کے بڑے بڑے منصوبے سوچتا ہے مگر اللہ تعالیٰ ان کی تمام تدبیروں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔میں 1912ء میں جب حج کے لیے گیا تو حضرت خلیفہ اول نے جن کو نادر کتابیں جمع