خطبات محمود (جلد 39) — Page 190
190 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ پہلا جہاز جو حاجیوں کو واپس لے جا رہا ہے اُس میں مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی واپس جارہے ہیں۔غرض تین آدمیوں میں سے ایک کو تو خدا تعالیٰ نے اس طرح دور کیا۔باقی دورہ گئے تھے۔جب حج ختم ہوا تو مکہ میں ہیضہ پھوٹ پڑا جو اتنا شدید تھا کہ مردوں کو دفن کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا تھا۔لوگ گلیوں میں اپنے مُردے پھینک کر چلے جاتے تھے۔اس وبا کو دیکھ کر ہم نے بھی واپسی کی تیاری شروع کر دی۔چلنے سے پہلے نانا جان اپنی بہن اور بھانجے سے ملنے کے لیے اُن کے مکان پر گئے۔میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک جنازہ پڑا ہے۔نانا جان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ انہوں نے ہمارے ماموں مولوی محمد احمد صاحب کا نام لیا کہ یہ اُن کا جنازہ ہے اور پھر بتایا کہ منی سے واپسی پر انہیں ہیضہ ہو گیا اور تھوڑی دیر میں ہی فوت ہو گئے۔اس کے بعد جب ہم جدہ پہنچے تو جدہ کے انگریزی قونصل خانہ میں بھی ہمارے ننھیال کی کے ایک رشتہ دار یعنی ہماری نانی اماں صاحبہ کی بہن کے ایک لڑکے جن کا نام سید نصیر تھا سپر نٹنڈنٹ تھے اور تمام جہازران کمپنیاں اُن کے تابع تھیں۔چونکہ جہاز کم تھے اور لوگ جلدی واپس جانا چاہتے تھے اس لیے جہاز کے ٹکٹ ملنے میں سخت دشواری تھی ہم نے اُن سے کہا کہ آپ ٹکٹوں کا جلدی انتظام کر دیں تاکہ ہم واپس جاسکیں۔انہوں نے مجھے دفتر میں ایک کھڑکی کے قریب بٹھا دیا جو بہت اونچی تھی اور جہاں ہاتھ بھی بمشکل پہنچ سکتا تھا اور خود ٹکٹ لینے چلے گئے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک کی دُبلا پتلا سفید رنگ کا نو جوان آیا اور کھڑکی کے نیچے کھڑے ہو کر اُس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں نے کہا آپ کا اس سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کمپنی میں کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا میں تو کام نہیں کرتا۔کہنے لگے پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں نے کہا میرے ایک عزیز مجھے یہاں بٹھا گئے ہیں اور وہ خود ٹکٹ خرید نے اندر گئے ہیں۔اس کی پر انہوں نے کہا کہ ہمارا قافلہ آٹھ عورتوں اور چودہ مردوں پر مشتمل ہے اور ہمیں ٹکٹ نہیں مل رہے۔مرد تو پھر بھی گزارہ کر سکتے ہیں لیکن ہمیں عورتوں کا سخت فکر ہے۔وہ لاشوں کود یکھ دیکھ کر پاگل ہورہی ہیں۔اگر آپ آٹھ ٹکٹ خرید دیں تو ہم عورتوں کو یہاں سے روانہ کر دیں۔میں نے کہا عورتیں اکیلی کس طرح کی جائیں گی؟ اس پر وہ کہنے لگے کہ اگر آپ چند ٹکٹ مردوں کے لیے بھی خرید سکیں تو یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے روپوں کی ایک تحصیلی مجھے پکڑا دی۔تھوڑی دیر کے بعد جب