خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 132

خطبات محمود جلد نمبر 39 132 $1958 لائے؟ آپ کو چاہیے کہ آپ کوئی کمائی بھی کیا کریں تا کہ گھر کی ضروریات پوری ہوں۔وہ کہنے لگے اگر آپ کسی کے گھر مہمان جائیں اور وہاں جاتے ہی کھڑی بننے لگ جائیں یا اپنے ہاتھ سے روٹی پکانے لگ جائیں تو کیا میز بان کو غصہ نہیں آئے گا کہ یہ میری ذلت کر رہا ہے؟ جب یہ میرا مہمان تھا تو پھر اس نے اپنی روٹی کا فکر کیوں کیا۔اسی طرح میں بھی خدا تعالیٰ کا مہمان ہوں۔اگر میں نے ی اپنے ہاتھ سے کام کرنا شروع کر دیا تو خدا تعالیٰ یہ کیوں نہیں سمجھے گا کہ میرے اس بندے نے میری ہتک کی ہے۔وہ بھی تیز طبیعت رکھتے تھے۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے میں مان لیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمانی صرف تین دن کی ہوا کرتی ہے۔8 پھر صدقہ اور مانگنے والی بات رہ جاتی ہے اور آپ نے تو اپنی عمر کا بیشتر حصہ اس کی مہمانی میں ضائع کر دیا ہے۔وہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک بات بھول گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ و یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے چونکہ مہمانی تین دن کی ہوتی ہے اس لیے اگر مجھے تین ہزار سال کی عمر مل گئی تو میری مہمانی ختم ہو جائے گی لیکن اس سے پہلے پہلے میری مہمانی ختم نہیں ہوسکتی۔اب دیکھو ان کے دوست نے انہیں خدا تعالیٰ کی محبت سے کھینچنا چاہا، ان کی بیوی نے بھی چاہا کہ وہ خدا تعالیٰ کا ذکر اور اُس کی عبادت چھوڑ کر دنیا کمانے کی طرف متوجہ ہوں مگر چونکہ صرف اُن کی کے دل میں ہی خدا تعالیٰ کی محبت نہیں تھی بلکہ خدا خود ان سے محبت کرتا تھا اس لیے کوشش کے باوجود ان کی کے دل سے اس کی محبت نہ نکل سکی۔یہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں نمایاں فرق ہے۔دوسرے مذاہب کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرو اور اسلام کہتا ہے کہ بیشک تم بھی اس سے محبت کرو لیکن وہ خود بھی تم سے محبت رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ تم اس سے مل جاؤ اور ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔چنانچہ جو شخص اسلام پر چلے وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو پاسکتا اور اس کی محبت کو حاصل کر سکتا ہے ہے لیکن جو شخص اسلام پر نہ چلے اور اس کی محبت کو حاصل نہ کرنا چاہے وہ اگر محروم رہتا ہے تو اس میں اس کا اپنا قصور ہے کوئی دوسرا اس کی کیا مدد کر سکتا ہے۔جو شخص آپ تباہ ہونا چاہتا ہو اس کو کون بچاسکتا ہے۔جن دنوں امتہ الحی مرحومہ زندہ تھیں ایک دفعہ سلسلہ پر کوئی ابتلا کی صورت پیدا ہوئی۔میری اُس وقت اُنہی کے ہاں باری تھی۔میرے دل پر اس کا اتنا بوجھ پڑا اور اس قد رافسوس ہوا کہ میں زمین