خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 133

$ 1958 133 خطبات محمود جلد نمبر 39 پر بستر بچھا کر سو گیا اور میں نے عہد کیا کہ جب تک یہ ابتلاء کی صورت دُور نہیں ہوگی میں چار پائی پر نہیں سوؤں گا۔جب میں سو گیا تو رویا میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت اماں جان کی شکل میں میرے پاس آیا ہے اور اُس کے ہاتھ میں درخت کی ایک تازہ سبز شاخ ہے اور جس طرح ماں بعض دفعہ اپنے بچہ پر ناراض ہوتی ہے مگر اُس کی ناراضگی کے پیچھے محبت کام کر رہی ہوتی ہے اسی طرح اُس نے و شاخ مجھے مارنے کے لیے اُٹھائی اور کہا محمود! بستر پر سوتا ہے یا نہیں؟ اور اس کے ساتھ ہی اُس نے وہ شاخ نہایت نرمی سے میرے جسم کے ساتھ چھو دی۔اس کا میری طبیعت پر اتنا اثر ہوا کہ میں فورا گود کر چار پائی پر چلا گیا جو میرے پاس ہی میرے پہلو میں بچھی تھی۔اور جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میں زمین پر نہیں بلکہ چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں۔گویا اس غنودگی کی حالت میں ہی میں نے چھلانگ ماری اور چار پائی پر جالیٹا۔تو ہمارا خدا ہمیں ماں سے بھی زیادہ چاہنے والا ہے اور وہ خود ہمیں پیار کرنے کے لیے ہمارے پاس آتا ہے۔اسی طرح اس فتنہ کے وقت میں نے دیکھا کہ ایک کمرہ کی طرف سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں مگر جب میں ایک جگہ کی آگ بجھا تا ہوں تو دوسری جگہ سے شعلے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔دوسری جگہ کے شعلے بجھاتا ہوں تو تیسری جگہ سے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں اور میں حیران ہوں کہ اس کی آگ کو کس طرح بجھاؤں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں۔آپ چونکہ اُس وقت فوت ہو چکے تھے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی شکل میں خدا تعالیٰ کی ہی اُس وقت آیا اور آپ نے ایک سوراخ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا محمود ! اس سوراخ کو بند کر دو تو کی ساری آگیں خود بخود بجھ جائیں گی۔چنانچہ میں نے زور سے اُس سوراخ کو بند کر دیا اور میں نے دیکھا کہ جونہی وہ سوراخ بند ہوا یکدم ساری آگئیں بجھ گئیں۔تو ہمارے خدا کی طرف سے صرف یہی آواز نہیں آتی کہ تم مجھے مل سکتے ہو بلکہ یہ بھی آواز آتی ہے کہ میں خود تمہیں کھینچ کر اپنے پاس بلانے کے لیے بے تاب ہوں۔دوسرے مذاہب کہتے ہیں کہ کوشش کرو، تپسیا 10 کرو یا ریاضات شاقہ بجا لاؤ پھر تمہیں خدا ملے گا لیکن اسلام کہتا ہے کہ تم ایک سچی آہ بھی کھینچو تو میں تمہیں اپنے تحرب میں بٹھالوں گا۔یہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں ایک نمایاں فرق ہے اور اس سے ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کو اس بارہ میں