خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 131

$ 1958 131 خطبات محمود جلد نمبر 39 انسان مایوس ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے نہیں مل سکتا لیکن اسلام میں اللہ تعالیٰ نے کی وصالِ الہی کا راستہ بہت آسان کر دیا ہے اور ایسا آسان کر دیا ہے کہ اگر مومن کے دل میں ذرا بھی محبت ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کو پا سکتا ہے اور اس کی برکات اور فیوض سے حصہ لے سکتا ہے۔اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔پھر موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں جو نمونہ دکھایا اُس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے دل میں خدا تعالی کی کتنی محبت تھی اور خدا تعالیٰ بھی آپ کے لیے کتنی غیرت رکھتا تھا۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں، مجھے بُرا بھلا کہتے ہیں، مجھے پر مختلف قسم کے حملے کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں اس پیغام کو چھوڑ دوں جس کو لوگوں تک پہنچانا ہے خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے مگر میں ایسا کس طرح کر سکتا ہوں۔میں تو دیکھتا ہوں کہ جب رات کو کی میرے عزیز ترین وجود مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو اُس وقت خدا میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اے میرے بندے! میں تیرے ساتھ ہوں، اے میرے بندے ! میں تیرے ساتھ ہوں۔پس وہ جو مجھ سے اس طرح محبت کرتا ہے اور رات کو جبکہ میرا کوئی ساتھی اور مددگار موجود نہیں ہوتا میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔میں اس خدا کو ان انسانوں کی وجہ سے کس طرح چھوڑ دوں جن کی محبتیں عارضی اور بناوٹی ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ اپنے وصال اور ب کے بڑے آسان رستے کھول دیئے ہیں۔ایک بزرگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہوئے کہ وہ رات دن عبادت اور ذکر الہی میں لگے رہتے تھے۔اُن کی بیوی کچھ دنیا داری کا رنگ رکھتی تھی۔اُس نے جب دیکھا کہ گھر میں تنگی ہے اور یہ کوئی کام کاج نہیں کرتے تو اُس نے ایک اور بزرگ کے پاس ان کی شکایت کی اور انہیں کہا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ وہ سارا دن باہر بیٹھا رہتا اور ذکر الہی کرتا رہتا ہے۔اگر وہ گھر میں آئے تو اسے پتا لگے کہ گھر کا کیا حال ہے اور کس تنگی سے گزارہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا بہت اچھا میں انہیں سمجھاؤں گا۔چنانچہ ایک دن وہ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ سارا دن اللہ ہی اللہ کرتے رہتے ہیں۔آخر آپ سوچیں کہ آپ کی بیوی کہاں سے خرچ لائے؟ اول تو مہمان نوازی کا بھی خرچ ہے۔پھر آپ کا بھی کھانا ہے اور آپ کی بیوی اور بچوں کا بھی کھانا ہے ان اخراجات کے لیے وہ کہاں۔سے روپیہ