خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 101

خطبات محمود جلد نمبر 39 دوسر۔101 $ 1958 پاخانہ پھرنے کو بھی جگہ نہیں ملتی اور یہ لوگ مکہ فتح کرنے کے دعوے کرتے ہیں 6 مگر دیکھ لو ابھی کی چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔اُس وقت مکہ والے ایسے گھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے فتح مکہ سے چند دن پہلے ابوسفیان کو مدینہ بھیجا تا کہ صلح حدیبیہ والے معاہدہ کی ابتدا اُس دن سے شمار کی جائے جب ابوسفیان اس کی توثیق کر دے اور وہ مسلمانوں کو مکہ پر حملہ کرنے سے باز رکھے۔ان لوگوں کو یہ تشویش اس لیے پیدا ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک رے کے خلاف لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ ایک فریق دوسرے فریق پر حملہ کر کے معاہدہ کو توڑ دے۔اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنو بکر مکہ والوں کے ساتھ مل گیا تھا اور خزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گیا تھا۔صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بنوبکر نے قریش مکہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے معاہد قبیلہ خزاعہ پر حملہ کر دیا اور اُن کے کئی آدمی مار ڈالے۔وہ جانتے تھے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا اور آپ کو اس کا یقینا علم ہوگا تو آپ معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھنے کی خاطر مکہ والوں پر حملہ کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے چاہا کہ پیشتر اس کے کہ مدینہ میں اس معاہدہ شکنی کی خبر پہنچے ابوسفیان وہاں جائے اور اس بارے میں کوشش کرے۔مگر پیشتر اس کے کہ قریش مکہ کی اس عہد شکنی کی مدینہ میں اطلاع پہنچتی حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات تہجد کے وقت جب وضو کرنے کے لیے اُٹھے تو میں نے سنا کہ آپ بلند آواز سے فرمارہے ہیں لبیک لبیک لبیک اور پھر آپ نے تین دفعہ فرما یا صرت نُصِرْتَ نُصِرُتَ۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے کیا فقرات فرمائے ہیں؟ یہ تو ایسے الفاظ ہیں کی جیسے آپ کسی شخص سے گفتگوفرمارہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ابھی دیکھا ہے کہ خزاعہ کا ایک وفد میرے پاس آیا ہے اور اُس نے کہا ہے کہ قریش نے بنو بکر کے ساتھ مل کر اُن پر حملہ کر دیا ہے آپ معاہدہ کے مطابق ہماری مدد کریں اور میں نے کہا کہ میں تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں۔چنانچہ تیسرے دن اس قبیلہ کے نمائندے مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔بعد میں ابوسفیان آیا اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہیں تھا اس