خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 100

100 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے نہیں ہوسکتا۔یہ صرف خدا تعالیٰ کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے۔اصل میں تو چھوٹے چھوٹے کام بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر کام جس میں کچھ نہ کچھ اہمیت نظر آتی ہو اس سے پہلے استخارہ کر لیا کرو۔4 اس کے معنے یہی ہیں کہ در حقیقت سب کام خدا تعالیٰ کی مدد سے ہوتے ہیں لیکن دنیا کو دلائل اور قرآن کریم کے ساتھ فتح کرنا تو بہت بڑا کام ہے۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - 5 یعنی ہمارے رسول نے ہمارے پاس فریاد کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔اب بتاؤ کہ جس کی قرآن کو مسلمان بھی اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک رہے ہوں اُس قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر ان عیسائیوں میں نکل جانا جو اُنیس سو سال سے برابر اسلام کو مٹانے کے لیے زور لگا رہے ہیں اور اسلام اور قرآن کریم کو دوبارہ قائم کرنا کیا کوئی معمولی بات ہے۔اس کے لیے تو ہمیں ہمیشہ یہ دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغوں کو کامیاب کرے اور دوسرے نو جوانوں کو بھی جن میں طاقت ہمت ہے خدا تعالیٰ توفیق دے کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کر کے دین کی خدمت کے لیے آگے نکل آئیں۔میں نے اس غرض کے لیے وقف جدید کی تحریک جاری کی تھی اور امید تھی کہ واقفین بڑا اچھا کام کریں گے اور گو اس کو جاری ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے لیکن پھر بھی بعض لوگوں کو باہر گئے ہوئے دو دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر جونتائج ابھی تک ظاہر ہوئے ہیں وہ کوئی خوشکن نہیں ہیں۔چنانچہ پچھلے سال مارچ کے مہینے میں دو سو آدمیوں نے بیعت کی تھی لیکن اس سال مارچ کے مہینہ میں صرف ایک سو ایک کی بیعت ہوئی ہے۔گویا وقف جدید کے اجرا کے بعد بیعت آدھی رہ گئی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے صحیح معنوں میں کوشش نہیں کی ورنہ بیعت کا نہ صرف پہلا معیار قائم رہنا چاہیے تھا بلکہ اس سے بھی ترقی کرنا چاہیے تھا۔اگر یہ لوگ ہماری توقع کے مطابق کام کریں اور جماعت کی کے دوست بھی اپنے فرائض کو سمجھیں اور خدا اور اُس کے رسول کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ لوگوں پر اثر نہ ہو۔دیکھ لو اسلام پر ایک ایسا زمانہ بھی آیا تھا کی جبکہ منافق مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جاؤ، اب تمہاری خیر نہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ منافق کھلے بندوں کہتے پھرتے تھے کہ اب تو مسلمان عورتوں کو باہر