خطبات محمود (جلد 39) — Page 102
102 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 لیے وہ کوئی معاہدہ نہیں تھا۔اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔آخر اس نے بیوقوفی سے خود ہی مسجد میں جا کر یہ اعلان کر دیا کہ چونکہ میں اس معاہدہ میں شامل نہیں تھا اور میں مکہ کا رئیس ہوں اس لیے وہ معاہدہ درست نہیں ہوسکتا۔اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرتا ہوں۔یہ بات سن کر مسلمان اُس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور وہ سخت شرمندہ ہوا۔بعد میں ابوسفیان نے کہا کہ مجھ سے حضرت علیؓ نے کہا تھا کہ تم مسجد میں جا کر اس قسم کا اعلان کر دو۔خدا تعالیٰ بنو ہاشم کا بُرا کرے انہوں نے مجھے ذلیل کیا ہے۔چونکہ بنو ہاشم اور بنوامیہ دونوں خاندانوں میں دیر سے رقابت چلی آتی تھی اس لیے ابوسفیان نے خیال کیا کہ حضرت علی نے اس مخالفت کی وجہ سے مجھے یہاں مسلمانوں کے سامنے ذلیل کیا ہے لیکن یہ بیان صرف ابوسفیان کا ای ہے جو اُس وقت کا فر تھا۔اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس پر یقین کیا جائے۔اس کے بعد ابوسفیان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف آیا۔اُس کی ایک بیٹی حضرت اُم حبیبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیاہی ہوئی تھیں۔وہاں ایک گدا بچھا ہوا تھا۔وہ اُس پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ نے وہ گڈا اُس کے نیچے سے کھینچ لیا۔ابوسفیان نے کہا بیٹی ! میں اس گڈا کے قابل نہیں ہوں یا یہ گڈا میرے قابل نہیں ہے؟ اُس نے یہ خیال کیا کہ چونکہ میں بڑا آدمی ہوں اس لیے شاید میری بیٹی نے میرے اعزاز کی وجہ سے یہ گڈا اٹھا لیا ہے۔حضرت اُمّ حبیبہ نے کہا اے میر۔باپ! معاف کرنا تم میرے باپ ہو اور ادب کی جگہ ہومگر اس گڑ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے ہیں اور تم ایک مشرک اور نا پاک شخص ہو سو میں اس گڈا پر جس پر خدا تعالیٰ کا رسول نماز پڑھا کرتا ہے خدا تعالیٰ کے دشمن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ابوسفیان جھٹ اُٹھ کھڑا ہو اور اس کی نے کہا میری بیٹی ! تو تو میرے بعد بہت بگڑ گئی ہے۔اس کے بعد ابوسفیان مکہ والوں کو اپنی ناکامی کی خبر دینے کے لیے واپس کو ٹا اور ادھر اسلامی لشکر جو دس ہزار کی تعداد میں تھا مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ کے قریب خیمہ زن ہو گیا۔مکہ والے چونکہ بہت زیادہ خوف زدہ تھے انہوں نے ابوسفیان کو پھر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کے پاس جائے اور انہیں جنگ سے باز رکھے مگر مکہ سے تھوڑی دور نکلنے پر ہی ابوسفیان نے رات کے وقت جنگل کو آگ سے روشن پایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا تھا کہ ہر خیمہ کے آگے آگ روشن کی جائے۔ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون