خطبات محمود (جلد 39) — Page 99
$1958 99 خطبات محمود جلد نمبر 39 دینا شروع کر دیا۔لیکن اب یہ ہوا کہ رمضان آیا تو میں نے کہا کہ رمضان میں قرآن کریم کی زیادہ تلاوت کرنی چاہیے۔چنانچہ میں نے اس مہینہ میں تلاوت قرآن کریم شروع کر دی اور بارہ سیپارہ روزانہ کی تلاوت کی۔بعض دفعہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں بیہوش ہو چلا ہوں لیکن پھر بھی ہمت کر کے پڑھتا چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دے دی کہ میں نے اپنا ارادہ پورا کر لیا اور آخری دم تک برابر بارہ پارے قرآن کریم کے پڑھتا رہا۔یوں حافظ تو شاید اس سے بھی زیادہ پڑھ سکتے ہیں۔چونکہ انہوں نے قرآن کریم حفظ کیا ہوتا ہے اس لیے وہ جلدی جلدی پڑھ سکتے ہیں لیکن جب و تلاوت کر رہے ہوتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا تلاوت کر رہے ہیں۔ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست مولوی عبد القادر صاحب مرحوم تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے کی صحابی اور حکیم محمد عمر صاحب کے والد تھے۔وہ بڑے نیک انسان تھے۔لیکن جب قرآن کریم پڑھا تہی کرتے تو اتنی جلدی جلدی پڑھتے کہ پتا نہیں لگتا تھا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔لیکن اگر قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے تو بارہ سیپارے روزانہ پڑھ لینا بڑی ہمت کا کام ہوتا ہے سوائے اس کے کہ جوحصہ زیادہ کثرت سے پڑھا ہوتا ہے وہ نسبتاً جلدی نظر سے گزر جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی آخری سورتیں مجھے اکثر یاد تھیں۔اگر چہ اب میں ان میں سے کچھ حصہ بھول گیا ہوں لیکن پھر بھی جب میں ان پر پہنچتا تھا تو میری رفتار بہت تیز ہو جاتی تھی۔شروع میں رفتار کمزور ہوتی تھی کیونکہ صحت کی کمزوری کی کی وجہ سے توجہ ہٹ جاتی تھی مگر آخری حصہ باوجود بیماری کے جلدی گزر جاتا تھا۔پس یہ گرمی ایک استثنائی صورت میں پڑی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی حفاظت کرے کیونکہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گرمی دوزخ کا ایک نمونہ ہے۔3 میں نے بتایا ہے کہ پچھلے سال ہم مئی میں پہاڑ پر گئے اور وہاں ہم لحاف لے کر سوتے تھے لیکن اس دفعہ وہاں دروازے اور کھڑکیاں کھول کر سونا پڑتا تھا۔اسی طرح پچھلے سال وہاں کا ٹمپریچر پچاس درجہ سے بھی کم تھا لیکن اس دفعہ چورانوے تھا اور یہ بہت بڑا فرق ہے۔بہر حال آج شورای کا اجلاس بھی ہے اور دوستوں کو وہاں جانا پڑے گا اس لیے میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری شوری میں برکت ڈالے اور ہمیں ایسا کام کرنے کی توفیق دے جس کے نتیجہ میں اسلام دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل جائے اور یہ کام اس چھوٹی سی جماعت