خطبات محمود (جلد 39) — Page 98
$ 1958 98 خطبات محمود جلد نمبر 39 گرمی پہنچی ہے کہ وہاں بھی بغیر کپڑے کے سونا پڑا ہے اس لیے پہاڑ پر جا کر جو فائدہ ہونا چاہیے تھا وہ کی نہیں ہوا۔یہاں تو انتہائی گرمی ہے۔کل یہاں درجہ حرارت ایک سو بارہ تھا۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی میں اخبارات پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جیکب آباد میں درجہ حرارت ایک سو گیارہ تک جا پہنچا ہے اور اس پر شور مچ گیا تھا کہ دوزخ کا منہ کھل گیا ہے۔ایک حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ای ہے کہ دوزخ سال میں دو دفعہ سانس لیتا ہے۔ایک سانس تو وہ گرمی میں لیتا ہے اور ایک سانس سردی میں لیتا ہے۔1 اس دفعہ بھی گرمی اتنی شدید ہے کہ کمزور آدمی اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھتا۔نوجوان آدمی تو اس کی پروا نہیں کرتا۔آخر اس گرمی میں دوست روزے بھی رکھتے رہے ہیں اور سارای مہینہ بعض لوگ درس بھی دیتے رہے ہیں۔اب تو کمزوری کی وجہ سے میں زیادہ کام نہیں کر سکتا لیکن اپنی ای جوانی کے زمانہ میں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ادھیڑ عمر میں یعنی 1922ء میں میں نے وہ درس دیا تھا جو کی تفسیر کبیر (سورۃ یونس تا کہف) کی صورت میں چھپا ہوا ہے۔اُس وقت میری عمر چونتیس سال کی تھی اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ کہل“ میں باتیں کیا کرتے تھے 2ے اور تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو تینتیس سال میں نبوت ملی تھی اور باتیں کرنے سے یہی مراد ہے کہ آپ نبوت والی باتیں کیا کرتے تھے ورنہ اڑھائی تین سال کی عمر میں سارے بچے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں اور اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی فضیلت نہیں رہتی۔عام طور پر نبوت چالیس سال کے بعد ملتی ہے لیکن اُس زمانہ میں لوگوں کو جلد پیغام پہنچانے کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کو تینتیس سال کی عمر میں ہی نبوت کا مقام عطا کر دیا گیا تھا۔اور 1922ء میں میری عمر چونتیس سال کی تھی یعنی وہ کہولت کی عمر تھی۔گو در حقیقت یہی عمر جوانی کی انتہائی طاقت کی ہوتی ہے ورنہ جس عمر کو عرف عام میں جوانی کہا جاتا ہے وہ ایک رنگ میں بچپن کا زمانہ ہوتا ہے۔بہر حال جب میری عمر چونتیس سال کی تھی تو میری یہ حالت تھی کہ میں رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھ کر درس دیا کرتا تھا اور یہ درس میں نو بجے صبح سے شروع کیا کرتا تھا اور شام کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب ختم کیا کرتا تھا اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ روزہ کھول کر میں نے درس بند کیا۔مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ درس ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اذان ہوگئی ، ہم نے روزہ کھولا ، نماز پڑھی اور پھر دوبارہ درس کی