خطبات محمود (جلد 39) — Page 95
$1958 95 خطبات محمود جلد نمبر 39 افراد احمدی ہو گئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے لیے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔انہیں کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ اُن کا کام ساری دنیا میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنا ہے۔پس میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور پوری کوشش سے تبلیغ میں لگ جاؤ۔یہ ضروری نہیں کہ سارے ہی سمجھیں تو کام شروع کیا جائے۔اگر ایک شخص بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو اُسے چاہیے کہ کام شروع کر دے اور دوسروں کے انتظار میں اپنے آپ کو خدمت سے محروم نہ رکھے۔لوگ دیکھتے رہتے ہیں کہ دوسرے کریں تو ہم بھی کریں گے حالانکہ نیک کام میں دوسروں کے انتظار کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر کوئی فرد واحد بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر کام میں لگاتی جائے تو وہی خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو سکتا ہے۔اکیلا ہونے سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں جبکہ ہر نبی اکیلا تھا۔کوئی نبی ایسا نہیں جس کے ساتھ پہلے ہی کوئی جماعت ہو اور اس مثال سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کامیاب ہمیشہ اکیلے ہی ہوا کرتے ہیں۔جو اس امید میں بیٹھے رہتے ہیں کہ دوسرے آئیں تو کی ہم بھی چلیں گے وہ کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ 6 اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے دل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے جس پر اگر وہ خاموش ہو جائے تو پھر دل مر جاتا ہے۔پس اگر کسی ایک کے دل میں بھی یہ جوش پیدا ہو جائے کہ کام کرنا چاہیے تو وہ دوسرے کا انتظار نہ کرے اور کام شروع کر دے مگر عقلمندی کے ساتھ۔جس طرح ایک قابل جرنیل صرف ایک ہی جگہ پر اپنی طاقت صرف نہیں کر دیتا بلکہ کبھی ایک جگہ حملہ کرتا ہے اور کبھی دوسری جگہ، کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف حتی کہ وہ جگہ تلاش کر لیتا ہے جہاں سے حملہ کر کے دروازہ کو توڑا جا سکتا ہے۔پس تبلیغ عقل کے ساتھ کرنی چاہیے۔اگر ایک شخص بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے کام شروع کر دے تو وہ اس جگہ خدا تعالیٰ کے نبی کا قائمقام ہوگا کیونکہ انبیاء کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اکیلے ہی کام کرتے ہیں۔پس جو اکیلا ہو کر کام کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے انبیاء کا ظل ہو گا۔ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ لاہور کی جماعت نے اب تک کوئی خاص ترقی نہیں کی اور اب بھی اگر کسی کے دل میں تحریک تو ہو لیکن وہ یہ خیال کرے کہ دوسرے اُٹھیں تو میں بھی اٹھوں گا تو نتیجہ وہی ہو گا جو اب تک ہوا ہے۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے اس کی پروا نہیں ، کوئی میرا ساتھ دیتا ہے یا نہیں میں