خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 94

$ 1958 94 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہو چکے ہیں چلو چھٹی ہوئی ، خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور دنیا میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنے کی کا خیال بھی اُن کو نہیں آتا تو جو شخص تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے قیام کے مقصد کو سامنے رکھتا ہے وہ اُس وقت تک آرام، چین سے نہیں بیٹھ سکتا جب تک ایک فرد بھی اس سے باہر ہے۔لیکن جسے اپنے آرام کا خیال ہے وہ اپنے خویش و اقارب کے احمدی ہو جانے پر مطمئن ہوسکتا ہے اور خیال کر سکتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا فضل ہو گیا ہے اور امن ہو گیا ہے۔لیکن ہمارا اپنے لیے امن حاصل کرنا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنا ہے اور جب تک یہ نہ ہو جائے ہمیں آرام اور چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے اور اپنے عملی نمونہ سے ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ لوگوں کے دل خود بخود اس طرف کھنچے چلے آئیں۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ یہ تعلیم کے ظلم برداشت کرو، یہ شکست کا ذریعہ نہیں بلکہ فتح کا ہے۔اور ا یہ ہار کا نہیں بلکہ فتح کا موجب بنتا ہے۔ظلم کو بزدلی سے برداشت کرنا پڑا ہے۔اگر تم ظلم کو اس لیے برداشت کرتے ہو کہ اس کے مقابلہ کی طاقت تم میں نہیں تو بیشک تم بزدل ہو اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں ہوگا۔لیکن اگر ایسی حالت میں برداشت کرتے ہو کہ تم میں مقابلہ کی طاقت ہے، تمہارے پاس بھی ہتھیار ہے تو یہ بزدلی نہیں۔اسی لیے میں نے بارہا کہا ہے کہ ہمیشہ اپنے پاس سوٹی رکھا کرو۔کیونکہ اگر تم نہتے ہو کر مار کھاؤ گے تو دنیا یہی کہے گی کہ یہ نہتا تھا۔اگر اس کے پاس ہتھیار ہوتا تو شاید یہ بھی مارتا لیکن جب ہتھیار ہونے اور طاقت رکھنے کے باوجود تم مار کھاؤ گے تو لوگوں کے دل محسوس کریں گے کہ خدا تعالی کے لیے تم نے قربانی کی ہے۔یہاں لاہور کا ہی واقعہ ہے۔یہاں کے دوستوں پر تبلیغ کرنے کا دورہ ایک دفعہ آیا تو بعض دوست تبلیغ کے لیے کسی گاؤں میں گئے۔وہاں کے لوگوں نے ان کو مارا۔یہ اگر چہ اچھی تعداد میں تھے مگر انہوں نے ہاتھ نہ اُٹھایا۔ان میں سے کسی کی پگڑی بھی وہاں رہ گئی اور یہ سب چلے آئے۔اس پر گاؤں سے کئی میل کے فاصلہ پر سے ایک شخص آکر ان سے ملا۔اُس نے پگڑی واپس کی اور کہا کہ سچائی واقعی آپ کے پاس ہے۔مجھے اپنی باتیں سنائیں۔تو جب طاقت رکھنے اور ہتھیار موجود ہونے کے باوجود ظلم کو برداشت کیا جائے تو دوسرے پر ضرور اثر ہوتا ہے اور انسانی فطرت اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔اب تک لاہور کے تمام محلوں میں بھی احمدیت نہیں پھیلی اور اگر کبھی ترقی بھی ہوتی ہے تو اس کی رفتار اتنی سست ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت قریب آئی ہوئی نظر نہیں آتی۔جن محلوں میں