خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 248

$1957 248 خطبات محمود جلد نمبر 38 قرآن کریم کا درس دینے کا شوق رہا ہے۔میری عادت تھی کہ میں دوستوں کو جمع کر لیتا اور ان سے کہتا کہ قرآن کریم کے متعلق مجھ سے کوئی سوال کرو۔اور جب وہ سوال کرتے تو میں انہیں جواب دیا کرتا تھا۔اُن سوالوں میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 2 سے لے کر مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 3 تک تمام صیغے غائب کے رکھے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ انسان کی نظروں سے اوجھل ہے اور وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔مثلا وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کے سامنے نہیں بلکہ غائب ہے۔پھر کہتا ہے الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 4 وہ بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کا وجود غائب ہے۔پھر کہتا ہے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ وہ جزا سزا کے دن کے وقت کا مالک ہے۔اس فقرہ میں بھی غائب کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔لیکن اس کے معا بعد اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ آ جاتا ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ کو اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ گویا وہ اُس کے سامنے کھڑا ہے۔اور وہ اُس سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے خدا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھے سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔یہ عبارت بظاہر بے جوڑ معلوم ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ طریق این حُسنِ کلام کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔میں نے اس سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ طریق حُسنِ کلام کے خلاف نہیں بلکہ حسن کلام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک کسی چیز کی کامل معرفت حاصل نہیں ہوتی وہ انسان کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔چونکہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہنے سے پہلے انسان کو خدا تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل نہیں تھی اِس لیے الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں غائب کے صیغے استعمال گئے ہیں۔گویا انسان خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اے خدا! میں نے ابھی تک تجھے پہچانا نہیں۔صرف میرے کان میں یہ آواز آئی ہے کہ کوئی خدا ہے جو رب العالمین ہے، رحمان ہے، ہے، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے لیکن جب اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ | الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ پر غور کرنے کے بعد اسے خدا تعالیٰ کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا! میں تیری ہی عبادت