خطبات محمود (جلد 38) — Page 249
$1957 249 خطبات محمود جلد نمبر 38 کرتا ہوں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتا ہوں۔کیونکہ میں نے تجھے دیکھ لیا ہے۔پہلے میں تجھے وہ وہ کر کے بلاتا تھا اب میں تجھے تو تو کر کے بلاتا ہوں۔پہلے میں نے تجھے دیکھا نہیں تھا لیکن اب میں تجھے دیکھ چکا ہوں اور میری معرفت بڑھ چکی ہے۔اس لیے اب میں تجھے براہ راست مخاطب کرتا ہوں اور تجھ سے امداد طلب کرتا ہوں۔غرض قرآن کریم نے ان آیات میں ایک طبعی ترتیب رکھی ہے۔سورۃ فاتحہ کی پہلی آیتوں میں غائب کے صیغے استعمال کیے کیونکہ اُس وقت تک خدا تعالیٰ کی معرفت تامہ مومن کو حاصل نہیں تھی لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے اُس کی جستجو کامل ہوگئی اور خدا تعالیٰ اُسے نظر آنے لگ گیا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ اے خدا! میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتا ہوں۔اب تو غائب نہیں رہا بلکہ اب تو مجھے اپنی روحانی آنکھوں سے نظر آنے لگ گیا ووه ، ہے۔اور جب میں نے تجھے دیکھ لیا ہے تو اب تجھے ”وہ“ سے خطاب نہیں کر سکتا۔بلکہ سلو سے ہی خطاب کروں گا کیونکہ تیری معرفتِ کاملہ حاصل ہو جانے کی وجہ سے تیری محبت میرے دل میں گھر کر گئی ہے۔اور چونکہ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی صفات نے مجھے بتا دیا ہے کہ تجھ میں ہی مدد دینے کی طاقت ہے اور جب تک وہ نہ آئے گی میں کامیاب نہیں ہوسکتا اس لیے اب میں تجھ سے ہی مدد کا طلب گار ہوں۔جب تک مجھے کامل معرفت نہیں ہوئی تھی میں سمجھتا تھا کہ میری مدد کرنے والا کوئی نہیں۔لیکن اب مجھے پتا لگ گیا ہے کہ تیری ہستی دنیا میں موجود ہے اور تو بڑی طاقتوں والا ہے۔اس لیے اب میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ در حقیقت اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے مقابلہ میں - کیونکہ عبادت دنیا میں ہوتی ہے۔دنیا میں انسان میں طاقت ہوتی ہے کہ وہ کوئی کام کرے۔اس لیے وہ کہتا ہے اے خدا! میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں تا کہ اس کے نتیجہ میں تیری رضا حاصل ہو۔لیکن مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں آخرت کا ذکر ہے اس لیے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے مقابلہ میں وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ عبادت کا وقت تو گزر گیا اور وہ وقت آ گیا جو جزا سزا کے لیے مقرر تھا۔اس لیے اس کے مقابلہ میں وہ کہتا ہے کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا! ہمارے کام کا زمانہ