خطبات محمود (جلد 38) — Page 16
$1957 16 خطبات محمود جلد نمبر 38 اعلیٰ درجہ کا بستر بچھا ہوا ہے۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پلنگ پر لیٹے ہوئے ہیں۔اس پلنگ کے پہلو میں ایک چھوٹا سا میز پڑا ہوا ہے۔وہ میز ایسا ہے جیسے مہمانوں کے آگے کھانا رکھنے کا میز ہوتا ہے۔اُس کے اوپر کھانا بھی رکھا ہوا ہے۔اس کھانے کی ایک چیز پلاؤ تھی مگر اس کے چاول بہت ہی اعلیٰ درجہ کے تھے۔اس سال بدوملہی کے ایک مخلص دوست نے کچھ چاول بھجوائے ہیں۔وہ چاول ہم نے گھر میں پکائے تو میری بیوی نے ان کی بہت تعریف کی کہ وہ بڑی اچھی قسم کے چاول ہیں۔جب ہم جابہ گئے تو ان میں سے کچھ چاول وہاں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔لیکن میں نے دیکھا کہ وہ چاول ان سے بھی بہتر تھے۔وہ پکنے کے بعد لمبے ہو گئے ہیں اور پھر الگ الگ رہے ہیں اور ٹوٹے بھی نہیں۔یہی اچھے چاولوں کی علامت ہوتی ہے۔بدوملہی کے دوست جو چاول لائے تھے وہ بھی پکانے کے بعد لمبے ہو جاتے ہیں اور الگ الگ رہتے ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ پکانے کے بعد کچھ گھر درے سے ہو جاتے ہیں۔بہر حال اُس پلاؤ کے چاول ان چاولوں سے زیادہ اچھے تھے اور وہ پلاؤ بڑے اعلیٰ درجہ کا تھا۔اس پلاؤ کے اوپر بڑے اعلیٰ درجہ کا قورمہ بھی پڑا ہوا تھا۔پھر میں نے دیکھا کہ پلاؤ کے ساتھ ہی ایک پلیٹ میں میٹھا کھانا پڑا ہوا ہے جو کچھ فرنی سے اور کچھ حریرہ سے مشابہ ہے۔حریرہ وہ چیز ہے جس کو نشاستہ سے تیار کیا جاتا ہے۔اس میں میٹھا اور گھی ڈالتے ہیں۔پھر اس میں پستے اور بادام کی ہوائیاں ڈالتے ہیں۔بعض دفعہ کشمش بھی ڈال لیتے ہیں اور دماغ کی طاقت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنی زندگی میں بعض اوقات حریرہ استعمال فرمایا کرتے تھے تا کہ دماغ کو طاقت حاصل ہو۔یہ جو پستہ وغیرہ کے باریک ٹکڑے ہوتے ہیں اور جن کو اُردو میں ہوائیاں کہتے ہیں ان کو حریرہ میں بھی ڈالتے ہیں اور زردہ میں بھی ڈالتے ہیں۔چونکہ وہ اتنے باریک ہوتے ہیں کہ اگر زور سے ہوا چلے تو انہیں اڑا کر لے جائے اس لیے انہیں ہوائیاں کہتے ہیں۔مجھے یاد نہیں کہ اس میٹھے کھانے میں ہوائیاں تھیں یا نہیں لیکن وہ اعلیٰ درجہ کا حریرہ تھا جسے دیکھ کر کھانے کی رغبت ہوتی تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مہمان آ رہا ہے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کھانا رکھوایا ہے۔تب میں نے چاہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملوں۔جس جگہ میز پڑی ہے اس کا چکر کاٹ کر میں چار پائی کے سرہانے کی طرف گیا جدھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سر تھا۔میں نے دیکھا کہ آپ کا