خطبات محمود (جلد 38) — Page 219
$1957 219 خطبات محمود جلد نمبر 38 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے تھے۔مطعم بن عدی نے کہا آئیے اور ہمارے آگے آگے چلیے۔ہم آپ کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔اور اگر کسی نے آپ کو ذرا بھی چھیڑا تو ہم اُس کی گردن اڑادیں گے۔چنانچہ وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی حفاظت میں آپ کے گھر چھوڑ آیا۔3 غرض یہ بھی ایک تنگی کا وقت تھا کہ آپ مکہ کے قانون کے مطابق شہر بدر کر دیئے گئے تھے اور آپ سوائے اس کے کہ کوئی کافر رئیس آپ کو پناہ دے مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔پھر تیسرا واقعہ آپ کے ضعف کا وہ آتا ہے جب کہ ہجرت کا وقت آیا اور کفار نے مشورہ کیا کہ آپ رات کو گھر میں لیٹے ہوئے ہوں تو آپ کو قتل کر دیا جائے۔اُس وقت بھی آپ میں کوئی طاقت نہیں تھی۔اگر دشمن چاہتے تو آپ کو بڑی آسانی سے قتل کر سکتے تھے۔یہ خدا تعالیٰ کا ہی نشان تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دلیری سے گھر سے باہر نکلے۔آپ نے دیکھا کہ کافر چاروں طرف کھڑے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ آپ ان کے درمیان سے نکل گئے اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔اُن کی خود اپنی روایت ہے کہ ہمیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نظر ہی نہیں آیا۔اگر وہ ہمیں نظر آتا ہے تو ہم اُسے مار نہ ڈالتے ؟ آپ سیدھے حضرت ابو بکر کے گھر تشریف لے گئے اور اُن کو ساتھ لے کر غار ثور کی طرف چلے گئے۔پھر تاریخوں میں آتا ہے کہ کفار نے آپ کا پیچھا کیا اور وہ غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کو دیکھ کر گھبرائے تو آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنَا 4 - ابوبکر ! ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔مکہ والوں نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو زندہ یا مردہ واپس لائے ہم اُسے سو اونٹ انعام دیں گے۔اس لالچ میں ہر طرف آپ کی تلاش شروع ہو گئی اور جب آپ مدینہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے تو ایک شخص سُراقہ نامی انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے پیچھے آیا۔اور جب اُس نے آپ کو دیکھ لیا تو آپ نے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔اب دیکھو! یہ کتنی بے دست و پائی کی بات ہے کہ ایک کا فرحملہ کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے والا کوئی نہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اس موقع پر بھی بچالیا۔چنانچہ جب وہ حملہ کی نیت سے آپ کے پاس پہنچا تو اُس کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔اُس نے بہت کوشش کی مگر اُس کے پاؤں نہ نکلے۔اس بات کا اُس کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بچے ہیں۔چنانچہ وہ آ۔