خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 220

خطبات محمود جلد نمبر 38 220 $1957 کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو پکڑنے کی نیت سے آیا تھا مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ آپ واقعی میں خدا تعالیٰ کے رسول ہیں اور وہ آپ کو ایک دن سارے عرب پر قبضہ بخشے گا۔آپ مہربانی فرما کر مجھے ایک پروانہ لکھ دیں کہ جب خدا تعالیٰ آپ کو بادشاہ بنائے گا تو مجھے امن دیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے حضرت ابوبکر کے غلام عامر بن فہیرہ سے فرمایا کہ اسے میری طرف سے یہ تحریر دے دو۔5 وہ بعد میں ہمیشہ یہ تحریر لوگوں کو دکھاتا تھا اور بڑے فخر کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی معافی حاصل کی ہوئی ہے۔گویا اُس شخص نے محسوس کر لیا کہ جس شخص کی حفاظت اس صورت میں ہوئی ہے کہ جب میں حملہ کرنے لگا تو میرے گھوڑے کے پاؤں زمین میں جنس گئے۔وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ضعف اور کمزوری کے ایسے زمانے گزرے ہیں جن کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کفار نے اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی گردن پر رکھ دی اور اس کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ آپ اس کی وجہ سے سجدہ سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔جب زیادہ دیر ہو گئی تو کسی نے حضرت فاطمہ کو اطلاع دے دی۔وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور بڑا زور لگا کر انہوں نے اُس اوجھڑی کو آپ کی گردن سے اُتارا۔6 پھر ایک دفعہ لوگوں نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر کھینچنا شروع کیا۔یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔اتنے میں حضرت ابو بکر" کو خبر ہوگئی۔وہ وہاں آئے اور انہوں نے آپ کو چھڑایا اور کہا اے ظالمو! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اس شخص پر محض اس لیے ظلم کر رہے ہو کہ یہ کہتا ہے کہ میرا خدا ایک ہے۔آخر اس نے کوئی چوری کی ہو، ڈا کا مارا ہو یاقتل کیا ہو تو کوئی بات بھی تھی لیکن خانہ کعبہ میں جو امن کی جگہ ہے تم نے اس شخص پر ظلم کیا ہے اور تم اس کے گلے میں پڑ کا ڈال کر کھینچ رہے ہو۔7 اب تم سمجھ سکتے ہو کہ خانہ کعبہ میں جو کفار کے نزدیک بھی امن کی جگہ تھی ایک شخص کے سر پر جبکہ وہ عبادت کر رہا ہو، اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دینا اور اس کے گلے میں پڑکا ڈالنا اُسی وقت ہو سکتا ہے ب یہ سمجھا جائے کہ یہ شخص بالکل بے حیثیت ہے۔ورنہ اگر وہ کسی کا رشتہ دار نہ بھی ہوتا تب بھی مکہ کے لوگ تلوار میں لے کر آ جاتے اور کہتے کہ خانہ کعبہ کو امن حاصل ہے۔تم کون ہوتے ہو کہ خانہ کعبہ میں آکر اس طرح ظلم کرتے ہو۔