خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 218

$1957 218 خطبات محمود جلد نمبر 38 پر وہ زمانہ بھی گزرا ہے جب تو بالکل فقیر ، غریب اور یتیم تھا اور دنیا کی مددکا محتاج تھا لیکن اب تجھ پر وہ زمانہ آنے والا ہے۔جب ہزاروں ہزار لوگ تیری بیعت کریں گے اور تیرے قدموں پر اپنی جانیں قربان کریں گے۔تو اُس زمانہ کو بھی دیکھ اور اس زمانہ کو بھی دیکھ جب تیری پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں۔تجھے بتایا گیا تھا کہ ایک دن تیری تبلیغ کے رستے کھل جائیں گے۔چنانچہ اب وہ رستے کھل گئے ہیں۔اب تو سمجھ لے کہ تیرا خدا کتناز بردست ہے۔جب تو کچھ بھی نہیں تھا اُس وقت بھی اُس نے تیری مدد کی اور اب جو تُو طاقتور ہو گیا ہے اور ساری دنیا میں تیری تبلیغ کے رستے کھل گئے ہیں تب بھی وہ خدا تیری مددکو آئے گا اور تیری تائید کرے گا۔دوسرا واقعہ آپ کی کمزوری کا تاریخوں میں یہ آتا ہے کہ ہجرت کے قریب آپ اپنے ایک غلام کو ساتھ لے کر خدائے واحد کا نام پھیلانے کے لیے طائف تشریف لے گئے۔مکہ کا قانون یہ تھا کہ جب تک کوئی شخص مکہ میں رہے اُس وقت تک وہ مکہ کی پناہ میں ہوتا تھا لیکن اگر وہ وہاں سے چلا جائے تو وہ دوبارہ مکہ میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ وہ مکہ کا شہری نہیں رہا اور پھر جب تک مکہ کا کوئی بڑا رئیس اسے پناہ نہ دے۔وہ شہر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کے غلام نے آپ سے کہا کہ آپ ایک دفعہ مکہ سے باہر چلے گئے تھے اور ملکہ کے قانون کے مطابق اب آپ اس شہر کے نہیں رہے۔اس لیے آپ مکہ میں اُس وقت داخل ہو سکتے ہیں جب وہاں کا کوئی رئیس آپ کو پناہ دے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ میں مکہ والوں میں سے مطعم بن عدی کو جانتا ہوں کہ وہ شریف الطبع انسان ہے۔تم اُس کے پاس جاؤ اور اُس سے جا کر کہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مکہ کے دروازہ پر کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے کہ تم مجھے پناہ دو۔میں خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کی پرستش کرنا چاہتا ہے ہوں اور اس غرض سے آیا ہوں کہ تم مجھے پناہ دینے کے لیے تیار ہو۔وہ مطعم بن عدی کے پاس گیا اور اُسے آپ کا پیغام دیا۔مطعم بن عدی نے اُسی وقت اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا اپنی تلوار میں سونت لو۔شہر کے دروازہ پر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑا ہے اور وہ شہر میں آنا چاہتا ہے۔اور اُس کے شہر میں آنے کی غرض محض خدا تعالیٰ کی عبادت ہے اور یہ ایسا مقدس کام ہے کہ اس کے لیے اگر ہم اپنی جانیں بھی لڑا دیں تو کم ہے۔چنانچہ اُس کے بیٹے اُس کے ساتھ چل پڑے اور وہ دروازہ پر آیا۔