خطبات محمود (جلد 38) — Page 210
خطبات محمود جلد نمبر 38 210 $1957 محمود غزنوی اور ایاز کا واقعہ بڑا مشہور ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ محمود جو کچھ آپ کھاتا تھا وہ کی ایاز کے لیے بھی بھجواتا تھا۔اور جب کوئی اچھا کپڑا آتا تھا تو کہتا تھا جاؤ یہ ایاز کو دے آؤ۔دوسرے رباریوں کو محمود کا یہ فعل بُرا لگتا تھا۔ایک دن سب درباریوں نے مل کر کہا کہ حضور ! آپ تو اُس کی اتنی خاطر کرتے ہیں لیکن وہ آپ کا خزانہ چراپچر اکر گھر لے جاتا ہے۔ایاز جرنیل بھی تھا اور خزانہ کا افسر بھی تھا۔محمود نے کہا میں ہرگز نہیں مان سکتا۔درباریوں نے کہا حضور ! آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔چنانچہ محمود ایک دن آدھی رات کو خزانہ میں گیا اور اس نے پہرہ داروں سے کہا کہ خبردار! اگر کسی کو میرے آنے کا پتا لگا۔ورنہ میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔پھر خزانہ کے محافظ سے کنجی لے لی اور اُسے کہا کہ تم اس وقت چلے جاؤ تھوڑی دیر کے بعد آنا۔اور خود تالہ کھول کر اندر چلا گیا۔اندر دوسرا دروازہ تھا اُس کو کھولا۔پھر تیسرے دروازہ کو کھولا۔جب اندر پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایاز موجود ہے۔اُس کے دل میں خیال آیا کہ ضرور چور ہے۔آخر آدھی رات کو یہاں اس کا کیا کام ہے؟ پھر اُس نے دیکھا کہ ایاز اُٹھا اور اس نے خزانہ کا جو صندوق تھا اور اُس میں ہیرے اور جواہرات رکھے جاتے تھے اُس کا تالا کھولا۔پھر اس کا دوسرا تالا کھولا، پھر تیسرا تالا کھولا۔پھر اُس کے اندر سے ایک چھوٹا سا بکس نکالا جس میں ہیرے اور جواہرات تھے۔اب تو محمود کو بالکل یقین ہو گیا اور دل میں کہنے لگا میں نے بڑی بیوقوفی کی کہ ایسے شخص کو اپنا در باری مقرر کیا۔یہ ایک غلام تھا جسے میں نے غلطی سے اتنی عزت دے دی۔اس کے بعد ایاز نے ایک اور بکس اندر سے نکالا اور اُس بکس کو کھولا تو اُس کے اندر سے نہایت سڑے ہوئے چیتھڑے نکلے۔اُس وقت ایاز نے اپنا شاہی لباس اُتارا اور وہ چیتھڑے پہن لیے۔پھر وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑا ہو گیا اور نماز میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے اور رو رو کر دعا کرنے لگا کہ الہی ! میں اس شہر میں ان چیتھڑوں میں داخل ہوا تھا۔یہ حض تیرا ہی احسان ہے کہ ان چیتھڑوں سے ترقی کر کے تو نے مجھے جرنیل اور درباری بنا دیا۔اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو میرا یہ اعزاز کیسے ہوتا؟ اور میں اس کا کب مستحق تھا؟ یہ سب تیرا ہی فضل ہے۔جب محمود نے یہ سنا تو اُس نے اُٹھ کر ایاز کو گلے لگا لیا اور کہنے لگا میری بدگمانی معاف کرنا۔مجھے پتا نہیں تھا کہ تم ایسا اچھا کام کر رہے ہو؟ مجھے لوگوں نے تمہارے متعلق بدگمان کر دیا تھا۔میری بدگمانی معاف کر دو۔اب مجھے پتا لگ گیا ہے کہ تم کیسے نیک آدمی ہو۔یہ کہہ کر باہر چلا گیا اور باہر جا کر باقی سب درباریوں کو جھٹلایا۔