خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 211

خطبات محمود جلد نمبر 38 211 $1957 اب دیکھو! ایاز نے محمود کی کتنی خدمت کی تھی مگر اس نے اتنی تکلیف نہیں اٹھائی تھی جتنی ہے ہماری خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھائی تھی۔یہاں تک کہ آپ کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ آپ رات کو امت کے لیے اتنی دعائیں کرتے تھے اور اتنی دیر نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر میرے اگلے اور پچھلے سب گناہ خدا تعالیٰ نے معاف کر دیئے ہیں تو کیا میرا حق نہیں کہ اُس کے احسان کاشکر ادا کروں۔4 ایاز کی خدمتیں لی جائیں تو وہ صرف چند نکلیں گی جو مشہور اور تاریخی ہیں۔مثلاً جب ہندوستان سے محمود واپس جا رہا تھا تو ایک جگہ اس نے ایک پہاڑ کی طرف دیکھا۔اس پر ایاز نے جھٹ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اُس طرف بھاگ گیا۔دوسرے درباری ایاز پر حسد کرتے تھے۔انہوں نے کہا دیکھیے ! ایسے نازک موقع پر ایاز نے غداری کی ہے اور وہ محمود کو چھوڑ کر چلا گیا۔حالانکہ یہ درہ خطرناک تھا۔اُسے چاہیے تھا کہ وہ یہاں رہتا۔ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ ایاز غدار ہے۔اب دیکھ لیجیے ! ایسے نازک موقع پر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔محمود نے اس بات کو سنا تو کہنے لگا تمہیں پتا نہیں۔میں ایاز کو جانتا ہوں۔ایاز کوئی بات بلا وجہ نہیں کیا کرتا۔واپس آنے پر جب میں اُس سے پوچھوں گا تو پتا لگ جائے گا کہ اُس کے اُس طرف جانے کی کیا وجہ تھی۔چنانچہ جب ایاز واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا تم کیوں مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ یہ تو خطرہ کا وقت تھا؟ کہنے لگا حضور! میں نے یہ سمجھا تھا کہ محمود کوئی بات بلا وجہ نہیں کر سکتا۔یہ بڑا عقلمند آدمی ہے۔اُس نے پہاڑ کی طرف دیکھا ہے تو ضرور وہاں کچھ ہوا کی گا۔چنانچہ میں اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچا تو وہاں میں نے دیکھا کہ کچھ ہندو جرنیل اپنی ہی سواریاں لے کر حملہ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں تا کہ جو نہی بادشاہ پہاڑی کے پاس پہنچے وہ اوپر سے پتھر دھکیل دیں۔بادشاہ نے مُڑ کر اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو! کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ یہ شخص مجھ سے اتنی محبت رکھتا ہے کہ میری ہر حرکت کا خیال رکھتا ہے۔اس نے محض میرے دیکھنے سے معلوم کر لیا کہ ضرور وہاں کچھ ہوگا۔لیکن تم کو پتا نہیں لگا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ میرے ساتھ بہت محبت کرتا ہے اور تمہاری میرے ساتھ اتنی محبت نہیں۔