خطبات محمود (جلد 38) — Page 209
209 $1957 ނ خطبات محمود جلد نمبر 38 کہ لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تو انہیں اتنا درد ہوتا ہے کہ جیسے کسی کی گردن پر چھری رکھ کر اسے دوسرے سرے تک لے جائیں۔یا جیسے کسی بکرے کی گردن پر چھری رکھ کر اسے اتنے زور سے چلائیں کہ اُس کی گردن کا پچھلا حصہ بھی کٹ جائے۔یہی بحع کے معنے ہوتے ہیں۔غرض فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر تمہارا دکھ اتنا گراں گزرتا ہے کہ اس کی زندگی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔اور جس شخص کی زندگی محض ہماری تکلیف کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہو ہمیں کیوں نہ جوش آئے گا اور ہم اس کی خاطر ہر قسم کی تکالیف برداشت کریں۔پھر وہ کوئی بُری بات بتا تا تب بھی کوئی بات تھی۔وہ تو ہمیں یہ کہتا ہے کہ دنیا میں سچائی پھیلا ؤ۔وہ تو ہمیں یہ کہتا ہے کہ امن اور راستی کے ساتھ دنیا کے ساتھ دنیا میں رہو۔پس اُس کی خاطر تکلیف اٹھانا تو ایسی چیز ہے جو خود ہمیں فائدہ اٹھانے والی بات ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری خاطر اتنی تکلیف اٹھاتا ہے کہ اپنی جان کو ہلاکت کے قریب پہنچا دیتا ہے تو ہمیں کیوں نہ احساس ہوگا کہ ایسے محسن اور محبت کرنے والے انسان کے لیے اور زیادہ قربانی کریں۔یہاں تک کہ دنیا میں صداقت ہی صداقت پھیلتی چلی جائے۔لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان اس بات سے غافل ہیں۔بس اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں لیکن خدا کے کام کو کوئی نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی بات کو ایک جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ بیکسے شد دین احمد بیچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست 3 یعنی ہر شخص اپنے کام میں مشغول ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کا اسے کوئی فکر نہیں۔اس شعر میں اسی آیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اور بتایا ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا خیر خواہ دیکھ کر کہ ہماری ذراسی تکلیف پر بھی ان کی کی جان گھٹنے لگ جاتی ہے اور مرنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں مسلمان اپنی ساری زندگی اُن کے دین کی اشاعت میں صرف کر دیتے۔لیکن بجائے اپنی ساری زندگی اس کام میں لگانے کے وہ ایسے کاموں میں پڑ گئے ہیں جو سراسر دنیوی ہیں اور اُن کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے کوئی واسطہ نہیں۔حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ہم پر احسانات ہیں اُن کے مقابلہ میں بادشا ہوں کے احسانات بھی بے حقیقت ہیں۔