خطبات محمود (جلد 37) — Page 59
$1956 59 خطبات محمود جلد نمبر 37 معرفت اس کے بھائی سے دوستی پیدا کی اور اس سے عبرانی پڑھنے لگ گئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں فرمایا کہ مفتی صاحب! مجھے بھی کسی کاغذ پر عبرانی کے کچھ الفاظ لکھ دیں تا کہ میں بھی انہیں سیکھنے کی کوشش کروں۔غرض بعض لوگوں میں خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ مجنونوں کی طرح کام کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔تم بھی اسی طرح کام کرو۔پھر دیکھو تمہارے کاموں میں خود بخود برکت پیدا ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ تمہیں غیب سے رزق دینا شروع کر دے گا۔لوگوں کے قلوب اس وقت دین کی طرف مائل ہیں اور وہ ہم سے مبلغین مانگ ہیں۔لیکن ایسے مبلغین کی ضرورت ہے جو دنیا کے پیچھے نہ پڑیں بلکہ دیوانہ وار تبلیغ کا کام کریں۔مجھے درد صاحب کا ایک خط اُن کی وفات سے کچھ دن پہلے ملا جو اُن کا آخری خط تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ میں اپنا کوئی بیٹیا مدمت دین کے لیے وقف کروں۔لیکن افسوس ہے کہ اس وقت تک ان میں سے کوئی بھی قابل نظر نہ آیا۔اب میں اپنے فلاں بچے کو وقف کرتا ہوں۔اس کے بعد وہ فوت ہو گئے۔لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے دس گیارہ بچوں اور بچیوں کی طرف سے خطوط آگئے کہ ہمیں وقف میں قبول فرمائیں۔ہمارے والد صاحب کی یہ انتہائی خواہش تھی کہ ہم اپنی زندگی وقف کریں۔اس لیے ہم ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے پیش کرتے ہیں۔گویا ایک ہی گھر سے دس گیارہ درخواستیں وقف کی آگئیں۔کیا ان لوگوں کی ضروریات نہیں؟ خود درد صاحب کو دیکھ لو جیسا کہ میں نے بتایا تھا وہ ایم۔اے تھے اور سب جی کے لیے انہیں آفر (Offer) آچکی تھی لیکن پھر بھی وہ سلسلہ کی خدمت کے لیے آ گئے۔ان کے والدین کی حیثیت اکثر طلباء کے والدین کی حیثیت سے اچھی تھی۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی ساری زندگی غربت میں گزار دی اور دین کی خدمت میں مصروف رہے۔پھر فوت ہونے سے قبل انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اپنی اولاد کو وقف کرنا چاہتا ہوں اور ان کی وفات کے معا بعد ان کے قریباً سب بچوں نے زندگیاں وقف کر دیں۔پس اللہ تعالیٰ کا کام تو ہو کر رہے گا۔سوال یہ ہے کہ کون شخص السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ