خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 58

خطبات محمود جلد نمبر 37 58 $1956 ہم سے پڑھو۔ہمیں وہ آدمی بھیجیں جو لوگوں کے مکانوں پر جا جا کر تبلیغ کریں۔ایسے آدمی نہ بھیجیں جو مدرس ٹائپ کے ہوں اور وہ یہاں آ کر کرسیوں پر بیٹھ جائیں۔اس وقت اگر تبلیغی مہم کو تیز کیا جائے تو ہزاروں لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔لیکن رومن کیتھولک ہو جانے کے بعد انہیں واپس لانا مشکل ہو گا۔یہاں چودھری فتح محمد صاحب نے بھی تبلیغ کا بڑا اچھا کام کیا ہے۔وہ تھوڑے ہی عرصہ میں سات آٹھ سو احمدی بنا چکے ہیں اور یہ سب لوگ زمیندار ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا کام روز بروز بڑھ رہا ہے۔دوسرے مبلغ بھی لوگوں کے گھروں پر جائیں، اُن سے دوستیاں قائم کریں اور انہیں جماعت کا لٹریچر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کامیاب نہ ہوں۔میں ایک دفعہ ڈلہوزی گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں پادری فرگوسن صاحب آئے ہوئے تھے۔انہوں نے سیالکوٹ شہر میں ”مرے کالج قائم کیا تھا اور خود ایم۔اے تھے اور اس وقت ان کی عمر پچھتر سال کی تھی۔مگر اس عمر میں بھی وہ ایک ہاتھ میں سوئی پکڑ لیتے اور دوسرے ہاتھ میں پمفلٹ اُٹھا لیتے اور سارا دن بازاروں اور محلوں میں گھوم کر ٹریکٹ وغیرہ تقسیم کرتے رہتے۔ہمیں ابھی سے اس قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔چنانچہ امریکہ نے یہی مطالبہ آیا ہے کہ ہمیں پاؤ نیرز (Pioneers) کی ضرورت ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں مدرسوں کی ضرورت نہیں، مدرسوں کی ضرورت کچھ عرصہ بعد ہو گی۔اب وقت ہے کہ جتنے آدمیوں کو مسلمان بنایا جا سکے بنا لیا جائے ورنہ انہیں دوسرے مذاہب والے لے جائیں گے۔مفتی محمد صادق صاحب شروع سے ہی کمزور صحت کے تھے لیکن انہیں یہ خصوصیت حاصل رہی ہے کہ وہ جہاں بھی گئے خدا تعالیٰ نے ان کے کام میں برکت دی اور جو کام بھی ان منی کے سپرد کیا گیا وہ انہوں نے بڑے شوق سے کیا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہمیں ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو عبرانی پڑھا ہوا ہو، تا کہ عبرانی تورات کا بھی مطالعہ کیا جا سکے۔مفتی صاحب نے فوراً عبرانی سیکھنے کا تہیہ کر لیا۔انہوں نے لا ہور شہر میں عبرانی جاننے والے کی تلاش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ایک یہودی طوائف کا بھائی عبرانی پڑھا ہوا ہے۔چنانچہ مفتی صاحب اس یہودی طوائف کے پاس گئے اور اس کی ނ