خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 60

$1956 60 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں شامل ہوتا ہے اور کون مصائب کا عرصہ گزر جانے کے بعد آتا ہے۔اگر قربانیوں کا دور گزر جانے کے بعد کوئی شخص آتا ہے تو اسے وہ برکت نہیں مل سکتی جو مصائب اُٹھا کر آنے والوں کو ملے گی۔میری عمر تیرہ چودہ سال کی تھی کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی۔اُس رؤیا کا نظارہ اب بھی میرے سامنے ہے۔میں نے دیکھا کہ اُس گلی میں جو اس وقت مدرسہ احمدیہ اور دکانوں کے درمیان ہے لوگ کبڈی کھیل رہے ہیں۔ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف غیر احمدی ہیں۔احمدیوں کی جو سائیڈ ہے اُس کا کپتان میں ہوں اور غیر احمدی کھلاڑیوں کے کپتان مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔جب کبڈی شروع ہوئی تو میں نے دیکھا کہ غیر احمدیوں کا جو آدمی بھی آتا احمدی اُسے پکڑ کر اپنی طرف رکھ لیتے۔اس طرح یکے بعد دیگرے اُن کا ایک ایک آدمی مرتا چلا گیا یہاں تک کہ صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رہ گئے۔آخر میں نے دیکھا کہ اُس طرف جدھر اب مدرسہ احمدیہ ہے رُخ کر کے اور دیوار کے ساتھ منہ لگا کر ایک پہلو پر ٹیڑھے ہو کر انہوں نے چلنا شروع کیا اور وہ لکیر جو دونوں پارٹیوں کے درمیان حد فاصل کے طور پر حائل تھی اُس طرف بڑھنے لگے۔جب وہ اُس لکیر کے پاس پہنچ گئے تو کہنے لگے ”ہن سارے لوگ آگئے ہین تے میں بھی آجاناں ایں۔یعنی جب سارے آ گئے تو میں بھی آجاتا ہوں اور یہ کہہ کر وہ بھی ہماری طرف آ گئے۔اس طرح تو سب لوگ اس سلسلہ میں آجائیں گے بلکہ وہ لوگ بھی آجائیں گے جو اس وقت مخالف ہیں۔لیکن برکت والا وہ ہے جو مصیبت کے وقت میں آگے آئے اور پھر اس کے ذریعہ دوسرے لوگ جماعت میں شامل ہوں۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ہی اپنا بہادر سپاہی سمجھتا ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اُس وقت پیش کیا جب دینی خدمت کے ساتھ کوئی مادی امید وابستہ نہیں تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ دن بھی آئیں گے جب خدمت دین کے ساتھ مادی مفاد بھی وابستہ ہوں گے لیکن مبارک ہے وہ جو اُس دن سے پہلے آتا اور اُن لوگوں میں شامل ہوتا ہے جو پہلی رات کے چاند کو دیکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مجھے آج قبول کرتا ہے وہ اُس شخص کی طرح ہے جس۔