خطبات محمود (جلد 37) — Page 543
$1956 543 خطبات محمود جلد نمبر 37 شروع ہوئیں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔میں نے بھی جواب میں حضرت عیسی علیہ السلام پر حملہ کر دیا۔اس سے اُس کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور کہنے لگا میں حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔میں نے کہا دیکھو! میرا تم سے وعدہ تھا کہ اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ نہیں کرو گے تو میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام پر حملہ نہیں کروں گا۔چنانچہ میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں کی لیکن تم نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کیا ہے۔اگر تم میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے غیرت ہے تو کیا میں ہی بے غیرت ہوں کہ مجھے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر حملہ دیکھ کر غیرت نہ آئے؟ اگر تم حضرت عیسی علیہ السلام کی تائید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک حملہ کرو گے تو میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تائید میں حضرت عیسی علیہ السلام پر ہیں حملے کروں گا۔چنانچہ وہ اُسی وقت اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتا۔تو یہ لوگ اُس وقت تک غراتے ہیں جب تک ان کے سامنے تلوار نہیں اُٹھائی جاتی یعنی ان کے مذہب پر حملہ نہیں کیا جاتا۔جب ان کے مذہب پر حملہ کیا جائے اور اس کے پول کھولے جائیں تو یہ لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے اور بھاگ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے پادریوں کی مجالس نے حکم دیا ہوا ہے کہ عیسائی مشنری احمدیوں سے بات نہ کیا کریں کیونکہ احمدی الزامی جواب دیتے ہیں اور ہمارے لیے مشکل پیش آ جاتی ہے۔گرمیوں میں جب میں مری تھا تو وہاں پادری آئے اور انہوں نے اسلام پر اعتراضات شروع کر دیئے۔میرا ایک لڑکا اُن سے بحث کے لیے چلا گیا اور ہمارا مبلغ بھی وہاں پہنچ گیا۔چند دن کی گفتگو کے بعد ہی پادریوں نے کہہ دیا۔ہم آئندہ آپ سے کوئی بحث نہیں کریں گے۔غرض احمدیوں کے پہنچتے ہی انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔پس إِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی جب یہ کتاب نکل آئے گی تو پھر پتا لگے گا کہ اسلام کا حملہ صرف سویز میں ہی نہیں بلکہ ہر ملک میں غالب ہوتا ہے اور عیسائیوں، پنڈتوں اور اسلام کے