خطبات محمود (جلد 37) — Page 513
513 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 جس کی وجہ سے مجھے ضعف محسوس ہو رہا ہے اس لیے میں خطبہ مختصر ہی پڑھوں گا۔بیماری کی وجہ سے چونکہ مجھے وقت کا پورا اندازہ نہیں ہوتا بعض دفعہ ابھی کافی وقت ہوتا ہے تو مجھے تھوڑا معلوم ہے اور بعض دفعہ تھوڑا وقت ہوتا ہے تو مجھے کافی معلوم ہوتا ہے۔اس لیے گو ابھی نومبر کا مہینہ چل رہا ہے اور دسمبر میں ہمارے جلسہ سالانہ کے دن ہوتے ہیں۔لیکن میں ابھی۔جماعت میں جلسہ سالانہ کے متعلق تحریک کر دیتا ہوں۔ہوتا پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے چندہ کے متعلق متواتر کئی سالوں سے دیکھا گیا ہے کہ جو جماعتیں شروع سال میں چندہ دے دیتی ہیں وہ تو دے دیتی ہیں اور جو شروع میں نہیں دیتیں اُن کے ذمہ کافی بقایا رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سالانہ بجٹ کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کے ذمہ بھی بعض دفعہ دو دو سال کا چندہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔حالانکہ جلسہ سالانہ کا چندہ ایک ایسی چیز ہے جس کے دینے کا ہمارے ملک میں سالہا سال سے رواج چلا آ رہا ہے۔جلسہ سالانہ ایک اجتماع کا موقع ہے اور اجتماع کے موقع پر ہمارے ملک میں لوگوں کی عادت ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ امداد ضرور کیا کرتے ہیں۔مثلاً شادیوں کے موقع پر اجتماع ہوتا ہے تو تمام رشتہ دار جاتے ہیں اور وہاں کچھ نہ کچھ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔موتوں کے موقع پر اجتماع ہوتا ہے تو تمام رشتہ دار جمع ہوتے ہیں اور کچھ نہ کچھ روپیہ دیتے ہیں۔میلوں پر اجتماع ہوتا ہے جو بعض دفعہ کسی ذلیل سی چیز کو یاد رکھنے کے لیے ہوتا ہے تو اس موقع پر بھی ہر گاؤں کا جو آدمی آتا ہے وہ آٹا یا کوئی اور چیز اپنے ساتھ لاتا ہے اور میلہ کرانے والے فقیر کو دے دیتا ہے۔وہ پہلے ذاتی ہوتا ہے جماعتی نہیں ہوتا۔وہاں روٹی کسی کو نہیں ملتی مگر پھر بھی لوگ میلہ کرانے والے فقیر کی جھونپڑی کے سامنے آئے اور دوسری اشیاء کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح بزرگوں کے عُرس ہوتے ہیں۔عُرس بھی کوئی دین کی تبلیغ کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ صرف بھائیوں کے ملنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔وہاں بھی لوگ بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور ان پیروں کی کچھ نہ کچھ امداد کرتے ہیں جن کے وہ مُرید ہوتے ہیں۔ہمارا جلسہ سالانہ تو عرسوں کی طرح نہیں بلکہ وہ ایک اہم دینی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔پھر اس موقع پر آنے والے سب مردوں اور عورتوں کو کھانا دیا جاتا ہے اور سب کے لیے رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے۔پیر