خطبات محمود (جلد 37) — Page 514
$1956 514 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نے عرسوں میں جانے والوں سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں کہ عرسوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک ایک روٹی ملتی ہے۔باقی جہاں کوئی چاہے گزارہ کرے بازار سے لے کر روٹی کھائے یا کسی اور جگہ انتظام کرے لیکن یہاں تو باقاعدہ ہر شخص کو کھانا ملتا ہے اور ان کی رہائش کا انتظام ہوتا ہے۔عربوں میں تو نہ کھانے کا انتظام ہوتا ہے اور نہ رہائش کا انتظام ہوتا ہے لیکن پھر بھی لوگ وہاں پہنچتے ہیں اور جس قدر آمد ہوتی ہے وہ سب کی سب ایک ہی شخص کی جیب میں چلی جاتی ہے لیکن یہاں جو آمد ہوتی ہے وہ خود جماعت پر خرچ ہوتی ہے۔اس لیے یہ چندہ کوئی ایسا بوجھ نہیں جسے خوشی سے برداشت نہ کیا جا سکتا ہو۔یہاں نہ صرف ہر آنے والے مرد کو کھانا دیا جاتا ہے بلکہ اُس کی بیوی کو بھی کھانا دیا جاتا ہے، اُس کے بچوں کو بھی کھانا دیا جاتا ہے۔اس کے بھائی بندوں اور رشتہ داروں کو بھی کھانا دیا جاتا ہے اور اُس کے ہم وطنوں کو بھی کھانا دیا جاتا ہے۔گویا سارے لوگ اِس چندہ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اور اگر کچھ رقم بچ جاتی ہے تو وہ تبلیغ اسلام پر خرچ ہوتی ہے کسی فرد واحد کی جیب میں نہیں جاتی۔پس ہمارا جلسہ سالانہ تمام عرسوں، میلوں اور اجتماعوں سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حصہ لینا بڑے ثواب کا کام ہے۔جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ابھی سے جلسہ سالانہ کا چندہ جمع ہی کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارا لمبا تجربہ ہے کہ جو جماعتیں جلسہ سالانہ سے پہلے چندہ دے دیتی ہیں وہ تو دے دیتی ہیں اور جو رہ جاتی ہیں وہ رہتی چلی جاتی ہیں۔ان میں سے بعض تو بعد میں نظارت بیت المال کے پیچھے پڑنے کی وجہ سے اور خط و کتابت کرنے پر آخر سال میں چندہ پورا کر دیتی ہیں اور بعض جماعتوں کے ذمہ دو دو سال کا بقایا چلا جاتا ہے حالانکہ انتظام پر تو بہر حال روپیہ خرچ ہوتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے والوں کو کھانا دیا جاتا ہے، اُن کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے، روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے، پانی کا انتظام کیا جاتا ہے، صفائی کا انتظام کیا جاتا ہے، جو ضروریات زندگی انہیں گھر پر پوری کرنی ہوتی ہیں وہ یہاں پوری کی جاتی ہیں۔اگر ہر احمدی یہ سمجھ کر کہ اگر وہ اپنے گھر پر رہتا تب بھی خرچ کرتا انہی تین دنوں کے کھانے وغیرہ کا خرچ دے دے تو جلسہ سالانہ کے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔وہ صرف یہ مدنظر رکھ لے کہ اول تو وہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے تین دن کے سب