خطبات محمود (جلد 37) — Page 484
خطبات محمود جلد نمبر 37 484 $1956 پھر کوئی زمانہ ایسا تھا کہ ایک مسجد بنانے پر پانچ چھ ہزار روپیہ تک خرچ آتا تھا۔لیکن اب ہے حالت ہے کہ ہالینڈ میں جو مسجد ہم نے بنائی ہے وہ میں نے عورتوں کے ذمہ لگائی تھی۔میں نے انہیں کہا تھا کہ تم توے ہزار روپیہ دے دو تو یہ مسجد تمہارے روپے سے بن جائے گی۔لیکن اس مسجد پر ایک لاکھ پچاسی ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔اب عورتیں پریشان ہیں کہ ہم کیا کریں؟ انہوں نے ستر ہزار روپیہ تو جمع کر لیا تھا مگر اب ایک لاکھ آٹھ ہزار روپیہ اور چاہیے۔تمہیں یہی ضروریات ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ساری دنیا کے فائدہ کے لیے بنایا گیا ہے۔اس لیے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کا کام بھی ساری دنیا کے لیے ہو گا اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کریں اور ایک جماعتی تنظیم موجود ہو جس کے ماتحت لوگوں سے روپیہ لیا جائے اور اشاعت اسلام کے کام پر خرچ کیا جائے۔اگر ایسا نہ ہو تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔پھر مسلمانوں کے لیے مسجد بھی ایک ضروری چیز ہے لیکن اگر کسی ملک میں صرف دس میں مسلمان ہو جائیں تو وہ مسجد کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ایک ایک مسجد پر لاکھوں روپیہ خرچ آتا ہے اور دس بیس نومسلموں کے لیے اتنی بھاری رقم جمع کرنا بہت مشکل ہے۔اس لیے وہ بوجھ بھی ہمیں ہی اُٹھانا پڑے گا۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ فی الحال ہمیں مہنگے ممالک میں چالیس مساجد کی ضرورت ہے۔اور اگر ایک مسجد کی تعمیر کے اخراجات کا اندازہ دولاکھ روپیہ لگایا جائے تو ان چالیس مساجد کے لیے اسی لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔پھر صرف مساجد کا تیار کرنا ہی کافی نہیں ان ممالک میں ہمیں اپنے مبلغ بھی رکھنے پڑیں گے اور پھر لٹریچر کی اشاعت بھی کرنی پڑے گی اور کی یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت کو برداشت کرنا پڑے گا۔شاید تم یہ سن کر گھبرا جاؤ اور کہو کہ ہم اتنا بوجھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔سو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب بیعت لینی شروع کی تو اُس وقت آپ نے چندوں کی بھی تحریک فرمائی تھی۔لیکن اُس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ اتنا بوجھ اُٹھایا جا سکتا ہے جتنا اس وقت ہماری جماعت اُٹھا رہی ہے۔جب