خطبات محمود (جلد 37) — Page 483
$1956 483 خطبات محمود جلد نمبر 37 بیوی کو ہم دوروپے ماہوار دیتے ہیں اور وہ پھر بھی کام سے جی چراتی ہے۔اس پر نواب صاحب کہنے لگے حضور ! آپ تو دو روپیہ دیتے ہیں ہم چودہ روپے ماہوار دیتے ہیں اور پھر بھی چوڑھا راضی نہیں۔غرض اس زمانہ میں اور پرانے زمانہ میں بڑا بھاری فرق ہے۔اب بیرونی ممالک میں جانے پر اتنا خرچ ہوتا ہے کہ اسے کوئی فرد آسانی سے برداشت نہیں کر سکتا۔ہاں! ایک قوم مل کر کسی کو باہر بھیج سکتی ہے۔فرد چاہے چار سو یا پانچ سو روپے ماہوار تنخواہ پانے والا ہو تب ایسا نہیں کرسکتا۔ڈپٹی کمشنروں کی تنخواہیں قریباً بارہ سو روپیہ ماہوار ہوتی ہیں مگر وہ بھی تین چار سو روپیہ ماہوار خرچ نہیں دے سکتے کیونکہ انہوں نے اپنے بیوی بچوں کی خوراک اور لباس کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے، بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔پھر دعوتوں کا خرچ ہوتا ہے، کوٹھی کی حفاظت کا کام ہوتا ہے، پھر بالا حکام آتے ہیں تو اُن کے استقبال اور پارٹیوں پر خرچ ہوتا غرض وہ بھی اپنی تنخواہوں میں سے زیادہ رقم نہیں بچا سکتے اور اپنے کسی بیٹے کو ہے۔اشاعت اسلام کے لیے باہر نہیں بھجوا سکتے۔ڈپٹی کمشنروں سے بڑے رینک کے افسر تو بہت تھوڑے ہیں۔وزیروں کو لے لو وہ بھی گنتی کے ہوتے ہیں۔اور وزیراعظم تو پاکستان میں ایک ہی ہے۔وزیر اعلیٰ دو ہیں۔ایک مغربی پاکستان کا اور ایک مشرقی پاکستان کا۔پھر بڑی مصیبت ہے کہ جن لوگوں کو مالی وسعت نصیب ہوتی ہے انہیں اشاعتِ اسلام کا احساس نہیں ہوتا اور جنہیں اس کام کا کچھ احساس ہوتا ہے وہ مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔غرض یہ کام تبھی : سکتا ہے جب ایک منظم جماعت موجود ہو۔پھر چاہے اس کے افراد غریب بھی ہوں وہ اس کام کو کر سکتے ہیں۔دیکھو! شروع شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دھیلا چندہ کی شرح مقرر کی تھی اور وہ بھی سال میں ایک دفعہ۔اور اُس وقت اتنی رقم میں گزارہ ہو جاتا تھا۔لیکن اب یہ حال ہے کہ جماعت کا ہر کمانے والا اپنی کمائی میں سے ایک آنہ فی روپیہ دیتا ہے۔اور پھر تحریک جدید بھی جاری ہے لیکن پھر بھی خزانہ مقروض رہتا ہے کیونکہ ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کا کام کرنا پڑتا ہے اور اس پر چھپیں تمہیں لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔ہو