خطبات محمود (جلد 37) — Page 485
$1956 485 خطبات محمود جلد نمبر 37 حضرت خلیفة المسيح الاول فوت ہوئے ہیں تو اُس وقت بیرونی ممالک میں سے کسی ملک میں بھی ہمارا کوئی مبلغ نہیں تھا۔گو اب پیغامیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ دو کنگ مسلم مشن آپ نے ہی قائم کیا تھا حالانکہ خواجہ کمال الدین صاحب جو وہ کنگ مسلم مشن کے بانی ہیں اُن کا اپنا بیان اخبار مدینہ بجنور میں چھپ چکا ہے کہ یہ مسلم مشن وو کنگ اپنی بناء، اپنے ہی وجود، اپنے قیام کے لیے میری ذات کے سوا کسی اور جماعت یا شخصیت یا کسی انجمن کا مرہونِ احسان نہیں ہے۔میں نے اپنے ہی سرمایہ سے جو وکالت کے ذریعہ مجھے حاصل ہوا اس مشن کو قائم کیا۔اس کے متعلق نہ میں نے کسی سے مشورہ حاصل کیا نہ کسی نے مجھے مشورہ دیا“۔3 یہ بیان میں نے الفضل میں بھی شائع کرا دیا تھا اور بتایا تھا کہ خواجہ صاحب کا اپنا بیان یہ ہے کہ میں اپنی مرضی سے اور اپنے روپیہ سے وہاں گیا اور اشاعت اسلام کا کام کرتا رہا اس میں کسی جماعت، انجمن یا شخصیت کا احسان نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ نواب رضوی صاحب نے جو اُن دنوں بمبئی میں رہتے تھے انہیں ایک سال کا خرچ دیا تھا کہ وہ انگلستان ہائیں اور اُن کے مقدمہ کی پیروی کریں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو اسلام کی تبلیغ بھی کریں۔نواب رضوی کو اتفاقیہ طور پر دولت ہاتھ آگئی تھی کیونکہ ان کی شادی نظام حیدرآباد عثمان علی خاں صاحب کی پھوپھی زاد بہن سے ہوئی تھی اور شادی بھی خفیہ طور پر ہوئی۔نواب رضوی چونکہ صرف ایک وکیل تھے اس لیے نظام حیدر آباد یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی پھوپھی زاد بہن کی ان سے شادی ہو۔وہ چونکہ بادشاہ تھے اس لیے اسے اپنی ہتک خیال کرتے تھے اور بیگم کے باپ کی چالیس پچاس لاکھ روپیہ سالانہ کی جائیداد تھی اور اس نے اس جائیداد کا ایک بڑا حصہ نواب رضوی کو دے دیا تھا۔نواب رضوی بمبئی آگئے اور نظام حیدر آباد نے انہیں عدالت میں نالش کرنے کی دھمکی دی۔اس پر انہوں نے خواجہ کمال الدین صاحب کو سفر کے اخراجات کے علاوہ سال بھر کے قیام کے اخراجات بھی دیئے تا کہ وہ انگلستان میں جاکر ان کا مقدمہ بھی لڑیں اور اپنی خواہش کے مطابق تبلیغ بھی کریں۔گویا خواجہ صاحب کو اتفاقی طور پر ایک ایسا آدمی مل گیا تھا جس نے انہیں ایک سال کا خرچ دے دیا تھا۔مگر اب یہ تو امید نہیں کی جا سکتی کہ روز روز نظام حیدر آباد پیدا ہوں اور وقار الملک اُن کے پھوپھا ہوں