خطبات محمود (جلد 37) — Page 477
$1956 477 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور میں نے اُن تمام جگہوں کو دیکھا جہاں احمدیوں نے خدمتِ خلق کی تھی۔میں نے دیکھا کہ عورتیں، مرد اور بچے سب اپنے گھروں سے باہر آ جاتے تھے اور جماعت کا شکر یہ ادا کرتے تھے۔ان میں سے کئی لوگ میری منتیں کرتے تھے کہ ان کے مکانوں کی چھتیں بھی ٹوٹی ہوئی کی ہیں۔ان کی امداد کی جائے۔ایک مخالف اخبار نے لاہور کے ان لوگوں کو طعنہ دیا کہ ابھی مارشل لاء کے دنوں میں احمدیوں نے تمہارے بھائیوں کو مروایا ہے اور اب تم اُن کی منتیں کر رہے ہو اور اُن کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہو۔ایسا کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی ؟ اگر چہ اس نے غلط کہا تھا کہ وہ لوگ ہماری وجہ سے موت کا شکار ہوئے تھے لیکن تاہم میں نے کہا چلو! اس نے اتنا تو مان لیا کہ وہ لوگ ہماری منتیں کرتے تھے۔وہ منتیں کیوں کرتے تھے؟ اسی لیے کہ وہ جانتے تھے کہ ہم نے جو خدمت کی ہے وہ اپنے نفس کے لیے نہیں کی بلکہ محض ان لالی کے لیے کی ہے۔پچھلے دنوں سیلاب آیا تو مجھے لائکپور کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ شیخوپورہ کا وہ حصہ جہاں احمدیوں نے خدمت کی میرے علاقہ میں تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک جگہ پر کچھ جانور مرے پڑے تھے اور اُن سے بہت بُو آ رہی تھی۔میں نے پولیس سے اُن جانوروں کو دفن کرنے کے لیے کہا تو اُس نے انکار کر دیا۔لیکن آپ کے احمدیوں کو میں نے کہا تو انہوں نے بڑے شوق سے اس کام کو کیا۔اس کا مجھے پر اتنا اثر ہوا کہ میں نے سارے مسلمانوں کو کہا تمہیں کی شرم نہیں آتی کہ تم ان احمدیوں کے دشمن ہو اور وہ تمہاری خاطر اتنا کام کرتے ہیں۔تمہاری پولیس جو گورنمنٹ سے تنخواہیں لیتی ہے وہ کام کرنے کو تیار نہ ہوئی۔میں نے اسے مُردہ جانوروں کو دفن کرنے کے لیے کہا تو اس نے انکار کر دیا اور احمدیوں کو کہا تو بات سنتے ہی وہاں چلے گئے اور جانوروں کو دفن کر دیا۔پس اگر تم أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ والی بات کو یاد رکھو تو اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کر سکتے ہو اور لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کر سکتے ہو۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم کو پیدا ہی بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے کیا گیا ہے۔لیکن اگر یہ اہلِ کتاب بھی جن کا دین جھوٹا ہے اس پر عمل کریں اور بے نفسی اور بے غرضی سے بنی نوع انسان کی خدمت کریں تو ان کی بھی